اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 442 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 442

442 اہلی زندگی میں رسول کریم کا بہترین نمونہ اسوہ انسان کامل کے مقابلے مردوں کے ساتھ کرواتے ہیں اور کبھی میدان جنگ میں مردوں کی بجائے عورتوں کو نہیں بھجواتے۔اس فرق کے باوجود مرد عورت کی برابری کا سوال اٹھا نا محض افراط و تفریط کی راہ ہے۔آنحضور ﷺ نے عورت میں ناز و نخرے کی طبعی اور جیبی کیفیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے فرمایا کہ عورت کی پیدائش پسلی سے ہوئی یعنی اُس کی طبیعت اور مزاج میں ایک کبھی اور نزاکت ہے جو طبعاً پائی جاتی ہے۔اگر تم اس کو ایک طریق پر سیدھا چلانا چاہوتو یہ مکن نہیں۔لیکن اگر تم اُس کی کبھی کی کیفیت ناز و ادا کے ساتھ اس سے فائدہ اٹھانا چاہو تو یقیناً بہت زیادہ فائدہ اُٹھا سکتے ہو۔لیکن اگر اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو توڑ بیٹھو گے۔یعنی اس کا آخری انجام طلاق کے سوا کیا ہوگا۔( مسلم )2 آنحضور ﷺ نے میاں بیوی کو ایثار کا پہلو مد نظر رکھتے ہوئے ایک دوسرے میں خوبیاں تلاش کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اگر تم میں سے کسی کو دوسرے میں کوئی عیب نظر آتا ہے یا اُس کی کوئی ادا نا پسند ہے تو کئی باتیں اسکی پسند بھی ہونگی جو اچھی بھی لگیں گی، اُن کو مدنظر رکھ کر ایثار کا پہلو اختیار کرتے ہوئے موافقت کی فضا پیدا کرنی چاہیے۔(مسلم)3 حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق قرآن شریف کی اس پاکیزہ تعلیم کے عین مطابق تھے اور آپ کی بعثت کا بڑا مقصد ہی ان اعلیٰ اخلاق کا قیام تھا۔(احمد )4 نان و نفقہ کی ذمہ داری آنحضور کا نمونہ گھریلو زندگی میں ہر لحاظ سے مثالی اور بہترین تھا۔آپ اپنے اہل خانہ کے نان و نفقہ کا بطور خاص اہتمام فرماتے تھے۔ہر چند کہ آپ کے گھر میں وہ دن بھی آئے جب دو دو ماہ تک چولہے میں آگ نہ جلی اور صرف پانی اور کھجور پر گزارا رہا۔( بخاری )5 رسول کریم اپنے اہل خانہ کوحتی المقدور قوت لایموت نہ صرف مہیا فرماتے تھے بلکہ اپنی ذات سے زیادہ اہل خانہ کا فکر فرمایا کرتے تھے۔خود بسا اوقات کھانا نہ ہونے کی صورت میں روزہ کی نیت فرمالیتے تھے۔ایسے دن بھی آپ پر آئے جب سخت فاقے سے نڈھال ہو کر بھوک کی شدت روکنے کے لئے پیٹ پر سلیں باندھنی پڑیں لیکن اہل خانہ کا اپنے سے بڑھ کر خیال رکھتے اور بوقت وفات بھی اپنی بیویوں کے نان و نفقہ کے بارے میں تاکیدی ہدایت کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کا خرچہ ان کو با قاعدگی کے ساتھ ادا کیا جائے۔( بخاری )6 آپ اکثر یہ دعا کرتے ”اے اللہ میرے اہل کو دنیا میں قوت لایموت ضرور عطا فرمانا۔یعنی کم از کم اتنی غذا ضرور دینا کہ فاقوں نہ مریں۔( احمد )7