اسوہء انسانِ کامل — Page 340
اسوہ انسان کامل 340 رسول اللہ کی حب الوطنی پھر آپ نے ہر فرد کا اپنے وطن سے محبت کا جائز حق اور مکمل آزادی کا حق قائم فرمایا۔پس وہ خطہ عرب جہاں ہمارے نبی پیدا ہوئے اور وہ شہر جس کے گلی کوچوں میں آپ کا بچپن گزرا، وہ گھر اور وہ مکان جہاں آپ کے شب و روز بسر ہوئے، بلاشبہ آپ کی طبعی محبت کے زیادہ حقدار تھے اور یہ محبت اپنے موقع محل پر خوب ظاہر ہوئی۔دفاع وطن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جذبہ حب وطن میں کمال تو ازن اور اعتدال پایا جاتا ہے۔آپ ہمیشہ حب الوطنی کے جملہ تقاضے پورے کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔جب کبھی وطن یا اہل وطن پر کوئی مصیبت آئی ، آپ نے آگے بڑھ کر اہل وطن کا ساتھ دیا۔آپ کی عمر ابھی ہیں سال تھی کہ آپ کی قوم اور قبیلہ قیس عیلان کے درمیان جنگ چھڑ گئی جس میں بنو کنانہ اور قریش ایک طرف تھے اور قیس عیلان اور ہوا زن دوسری طرف۔وطن پر اس مصیبت اور نازک صورت حال میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ایک عام سپاہی کی طرح فوج میں شامل ہو کر اپنے چچاؤں کو تیر پکڑاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔(ابن ہشام)2 اہل وطن سے ہمدردی نبی کریم کی اہل وطن کے ساتھ محبت کا یہ عالم ہے کہ جب حقوق انسانی کے قیام، اور ظالم کو ظلم سے روکنے کے لئے حلف الفضول کا معاہدہ ہوتا ہے۔آپ اس میں شریک ہوتے ہیں۔دعویٰ نبوت کے بعد بھی آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں عبد اللہ بن جدعان کے گھر میں اس معاہدہ حلف الفضول میں شریک ہوا تھا۔اس بات کی مجھے اتنی خوشی ہے کہ اگر سرخ اونٹ بھی مجھے مل جائیں تو اتنی خوشی نہ ہو اور اگر آج مجھے اس معاہدہ کی طرف بلایا جائے تو اس پر ضرور عمل کروں گا۔(ابن ہشام)3 وطن اور اہل وطن کی جو محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جاگزیں تھی۔زمانہ نبوت سے قبل اس کے اظہار کا ایک اور منظر اس وقت سامنے آتا ہے جب عربوں کو ظلم کا نشانہ بنانے والے ایرانیوں کے ساتھ رومیوں کی جنگ ہوئی۔عربوں نے رومیوں کی خوب مدد کی یہاں تک کہ رومی بالآخر فتح یاب ہوئے گویا عربوں کو ایرانیوں کے ظلم سے نجات ہوئی، اس روز اہل وطن کے چین اور سکھ کا خیال کر کے خوش ہو کر ہمارے آقا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ " آج وہ دن ہے کہ جس میں عربوں نے اپنا حق آزادی حاصل کر لیا ہے ( ابن سعد ) 4 خون کے آنسو آج کے دور آزادی میں ذرا اس انسان کی مظلومیت کا تصور تو کریں جسے اس کے شہر کے باسی اپنے وطن میں ہی رہنے نہ دیں بلکہ اس کے جان لیوا دشمن بن کر شہر سے نکلنے پر مجبور کریں، بلاشبہ آج ایسے شخص کو دنیا کا مظلوم ترین انسان