اسوہء انسانِ کامل — Page 324
اسوہ انسان کامل 324 نبی کریم کا انفاق فی سبیل اللہ اور جود و سخا دعا کی اے اللہ اسے بخش دے، اس پر رحم کر اور اسکے دل میں غنا پیدا کر دے۔پھر وہ لوگ واپس چلے گئے اور حج کے موقع پر 10 ھ میں دوبارہ آئے۔نبی کریم کا حسن تذکر کہ آپ نے ان سے اس بچے کے بارے میں پوچھا۔تو سب نے گواہی دی کہ ہم نے اس جیسا خوش نصیب اور اس سے زیادہ قانع آج تک نہیں دیکھا۔اللہ تعالیٰ کے اس پر بے شمار فضل ہیں۔(ابن سعد ) 49 فروہ بن مسیک مرادی شاہان کندہ کی اطاعت چھوڑ کر رسول کریم کی اطاعت قبول کرتے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔رسول کریم نے اسے بارہ اوقیہ سونا ، ایک عمدہ قسم کا اونٹ اور ملک عمان کی بنی ہوئی پوشاک انعام عطا فرمائی۔اور اسے مُراد قبیلہ پر امیر مقرر فرمایا۔(ابن سعد ) 50 10 ھ حجۃ الوداع کے سال میں وفد محارب آیا اور اسلام قبول کیا۔سیکی دور میں اُن سے بڑھ کر کسی نے رسول اللہ سے درشتی اور سخت زبانی نہیں کی تھی مگر ان سے بھی رسول اللہ نے حسن سلوک فر مایا اور دیگر وفود کی طرح انہیں انعام و اکرام سے نوازا۔(ابن سعد ) 51 فتح مکہ کے بعد نبی کریم کی خدمت میں مختلف قبائل عرب کے وفود کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا۔ہر چند کہ یہ لوگ اسلام کی شان و شوکت پر متاثر ہو کر اپنے قبائل اور علاقوں کی نمائندگی میں مزید جستجو تحقیق حق کے لئے مدینہ حاضر ہوتے تھے مگر نبی کریم کے اخلاق فاضلہ آپ کے حسن و احسان اور لطف و کرم کے نتیجہ سے ایسے گرویدہ ہوتے کہ اکثر اسلام قبول کر لیتے۔یہ وفود عرب بھی اپنے قبائلی رواج کے مطابق مختلف تحائف اور علاقائی سوغاتیں لے کر حاضر خدمت ہوتے تھے۔نبی کریم قرآنی حکم کے مطابق ان کو جوابا بہترین تحائف بھی عطا فرماتے تھے۔وفد دار تین کی آمد پر بھی یہی ہوا انہوں نے کچھ تحائف پیش کئے جن میں سے بعض تو آپ نے رکھ لئے بعض واپس فرمائے۔ان تحائف میں ایک ریشمی قباء بھی تھی جس پر سونے کے بٹن تھے۔وہ رسول کریم نے اپنے چچا حضرت عباس کو دیدی۔جو حضرت عباس نے ایک یہودی کو آٹھ ہزار درہم میں بیچی۔وفد کے ایک نمائندے تمیم نے عرض کیا کہ ہمارے پڑوس میں رومی سلطنت ہے وہاں کے دو شہر حیر کی اور بیت عینون ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ملک شام کی فتح عطا فرمائے تو یہ بستیاں ہمیں عطا فرما ئیں۔نبی کریم نے کمال یقین اور دریادلی سے فرمایا یہ تمہاری ہوئیں۔چنانچہ حضرت ابو بکر کے زمانہ خلافت میں جب یہ علاقے فتح ہوئے تو انہوں نے تمیم کو یہ بستیاں عطا کیں اور انہیں ایک تحریر بھی لکھ کر دی۔یہ وفد رسول کریم کی وفات تک مدینہ میں رہا۔آپ نے ان کو ایک سووسق کھجور قریباً ( دوصد پچیس من ) دینے کی ہدایت فرمائی تھی۔( ابن سعد ) 52 ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ستر ہزار درہم آئے۔یہ سب سے زیادہ مال تھا جو کبھی آپ کے پاس یا۔یہ در ہم آپ نے ایک چٹائی پر رکھوائے۔پھر آپ وہ بانٹنے کے لئے کھڑے ہوئے اور ان کو تقسیم کر کے دم لیا۔اس