اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 325 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 325

325 نبی کریم کا انفاق فی سبیل اللہ اور جود و سخا اسوہ انسان کامل دوران جو سوالی بھی یا، اُسے آپ نے عطا کیا۔یہاں تک کہ وہ چٹائی صاف ہوگئی۔( ابن الجوزی 53 ) دوسری روایت میں نوے ہزار درہم تقسیم کرنے کا ذکر ہے۔اس روز ہر سائل کو عطا کیا۔(ابن سید ) 54 عبداللہ ھوز نی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے حضرت بلال سے پوچھا کہ حضرت نبی کریم کے اخراجات کیسے پورے ہوتے تھے؟ بلال نے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو مبعوث کیا اس وقت آپ کے پاس کوئی مال نہیں تھا۔میں وفات تک آپ کے ساتھ رہا۔آپ کے پاس جب کوئی ضرورت مند تا تو مجھے حکم دیتے۔میں اس کے لئے قرض لے کر کپڑے وغیرہ خرید دیتا اور کھانا وغیرہ کھلاتا۔ایک دفعہ ایک مشرک نے کہا کہ کسی اور کی بجائے مجھ سے ہی قرض لے لیا کرو۔جب اس کا قرض زیادہ ہوا تو وہ بہت سختی سے تقاضا کرنے لگا۔یہاں تک کہ میں نے شہر چھوڑ کر بھاگ جانے کی تیاری کر لی۔مگر اگلے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے علی اصبح بلاوا گیا۔حضرت بلال فرماتے ہیں کہ میں حاضر ہوا۔کیا دیکھتا ہوں کہ چار اونٹ سامان طعام اور لباس سے لدے ہوئے ہیں جو فدک کے سردار نے آپ کو بھجوائے تھے۔حضور نے فرمایا اے بلال اللہ تعالیٰ نے تمہاری ادائیگی کا انتظام کر دیا۔اب قرض ادا کر دو۔چنانچہ قرض ادا ہوا اور کچھ بیچ بھی رہا۔آپ نے فرمایا میں گھر نہیں جاؤں گا جب تک کہ تم یہ مال بھی تقسیم نہ کر دو۔جب رات تک کوئی سائل نہ یا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ رات مسجد میں گزاری۔اگلے دن جب بلال نے بتایا کہ اب مال تقسیم ہو چکا ہے تو آپ اطمینان سے اپنے اہل خانہ کے پاس تشریف لے گئے۔(ابوداؤد ) 55 بخشش و عطا کے مواقع کی تلاش رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن شریف کی تعلیم کے مطابق تحفہ قبول کر کے جواب میں ( حسب حال ) بہتر تحفہ دینے کی کوشش فرماتے تھے۔ربیع بنت معوذ " بیان کرتی ہیں کہ میرے والد نے مجھے تازہ کھجوروں کا ایک طشت اور کچھ لکڑیاں دے کر حضور کی خدمت میں ( تحفہ ) پیش کرنے کے لئے بھجوایا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوٹی کڑیاں بہت پسند تھیں۔اس زمانہ میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بحرین کے علاقے سے کچھ زیورات آئے ہوئے تھے آپ نے مٹھی بھر زیور ربیعہ کو عطا فرمایا۔دوسری روایت میں ذکر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بھر کر سونے کا زیور بیٹہ کو دیا اور فرمایا یہ زیور پہن لو۔( ہیمی ) 56 حسن ادائیگی ایک دفعہ نبی کریم نے ایک اونٹ کسی سے بطور قرض لیا، واپس کرتے وقت اس سے اچھا اونٹ لوٹایا اور فرمایا تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو ادائیگی میں بہتر طریق اختیار کرتے ہیں۔(ترندی 57) حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ حضور نے مجھ سے قرض لیا اور واپس کرتے ہوئے بڑھا کر عطا فرمایا۔( بخاری ) 58 ایک دفعہ ایک یہودی نے واپسی قرض کا تقاضاذ رافتی اور گستاخی سے کیا۔حضرت عمرؓ نے جوابا اُسے کچھ سخت ست کہا