اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 317 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 317

اسوہ انسان کامل 317 نبی کریم کا انفاق فی سبیل اللہ اور جود وسخا حاجت مندوں کا خود خیال رکھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حاجت مندوں کی ضروریات کا خود خیال رکھتے تھے۔جیسا کہ قرآن شریف میں بیان ہے آپ چہرہ کے تار سے ہی ایسے لوگوں کو بھانپ لیتے تھے۔(البقرة : 274) پھر ان کے سوال کرنے سے پہلے ہی از خود ان کی ضروریات ایثار کر کے بھی پوری فرماتے تھے۔اصحاب صفہ اکثر آپ کے احسان و تلطف سے مستفیض ہوتے تھے۔ان اصحاب اور حضرت ابوھریرہ کی مہمان نوازی کی وہ مثال کیسی ایمان افروز ہے جب فاقہ مست ابوھریرہ بھوک سے بد حال ایک قرآنی آیت کی تفسیر ابو بکر و عمر سے دریافت کرتے ہیں۔مقصود یہ تھا کہ شاید وہ ان کے لئے اس آیت کی عملی تفسیر کے طور پر کچھ کھانے پینے کا سامان کر دیں۔اتنے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ابوھریرہ کو دیکھ کر مسکرائے اور چہرہ دیکھتے ہی سمجھ گئے کہ ابوھریرہ فاقہ سے ہے۔آپ نے فرمایا ابو ہریرہ ! بھوک لگی ہے؟ چلو میرے ساتھ چلو۔ابو ہریرہ ساتھ ہو لئے۔آپ دودھ کا ایک پیالہ لائے اور فرمایا کہ جا کر اہل صفہ کو بھی بلا لاؤ۔یہ وہ مستحق اور غریب لوگ تھے جو مسجد نبوی میں اقامت پذیر ہو کر قرآن وسنت کی تعلیم میں مصروف رہتے تھے۔رسول اللہ اکثر ان کے لئے صدقات بھجوا دیتے اور تحائف میں بھی انہیں شریک کرتے۔اس موقع پر بھی آپ ان اصحاب صفہ کو نہیں بھولے۔پہلے انہیں دودھ پیش کیا پھر ابو ہریرہ کو خوب سیر کر کے خر میں خود نوش فرمایا۔( بخاری )24 حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو بھی نہیں دیکھا کہ صدقہ دینے کا کام کسی اور کے سپر دفرماتے ہوں بلکہ آپ خود سائل کے ہاتھ میں صدقہ رکھتے تھے۔( ابن سعد ) 25 معذوروں کا خیال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی راہ میں اموال کی تقسیم کے وقت معذد و محتاجوں کا بھی خاص خیال رکھتے تھے۔ایک دفعہ کہیں سے کچھ کپڑے آئے جو آپ نے تقسیم فرمائے۔مدینہ میں ایک نابینا ضرورت مند صحابی حضرت مخرمہ بھی ہوتے تھے۔انہیں خبر ہوئی تو سخت ناراضگی کے عالم میں آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر کے باہر سے ہی پکارنے لگے کہ میرا حصہ کہاں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مخرمہ کی آواز سنتے ہی پہچان گئے۔گھر سے ایک قمیص اٹھائے باہر تشریف لائے۔فرمایا اے مخرمہ مہم نے تو پہلے ہی تمہارے لئے یہ قمیص سنبھال کر رکھ لیا تھا۔(بخاری) 26 مختلف حیلوں سے امداد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم از راہ شفقت اپنے صحابہ کی ضروریات پر خود نظر رکھتے تھے۔امدا د کرتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھتے کہ ان کا احساس خود داری بھی مجروح نہ ہونے پائے اور دست سوال دراز کرنے کی بھی نوبت نہ آئے۔آپ از خود حسب حالات وضرورت امداد کی سعی فرماتے۔