اسوہء انسانِ کامل — Page 240
اسوہ انسان کامل 240 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا اہم منصب بطور نبی اور رسول کے یہ تھا کہ آپ اللہ کے حکم کے مطابق بنی نوع انسان کو خدا کی طرف بلائیں۔قرآن شریف میں آپ کا یہ مقام دَاعِبًا اِلَى اللهِ بِإِذْنِهِ “ (الاحزاب : 47) بیان کیا گیا ہے۔آپ ہی کا ئنات کے وہ بہترین وجود تھے جنہوں نے محض دنیا کو خدا کی طرف بلایا ہی نہیں بلکہ خدا کے حکموں پر خود عمل کر کے بھی دکھا دیا اور ثابت کیا کہ آپ ہی سب سے بڑھ کر خدا کے فرمانبردار ہیں۔آپ ہی تھے جنہوں نے ”بلغ ( یعنی پیغام پہنچا دو) کے حکم کی تعمیل میں حق تبلیغ ادا کر کے دکھایا۔آپ نے مخفی طور پر بھی دعوت الی اللہ کی اور اعلانیہ بھی۔دن کے وقت بھی دنیا کو خدا کی طرف بلایا اور رات کو بھی۔بنی نوع انسان کا گہرا درد آپ کے سینہ میں موجزن تھا جس کی بناء پر آپ ہر کس و ناکس کو اسلام کی تبلیغ کرتے تھے۔آپ نے غرباء اور فقراء کو بھی پیغام پہنچایا، بادشاہوں اور امراء کو بھی دعوت حق دی۔ان کی طاقت وسطوت شاہانہ سے بھی مرعوب نہیں ہوئے۔ہمیشہ قرآنی تعلیم کی تبلیغ حکمت اور استقلال کے ساتھ فرماتے رہے۔یہی آپ کا وہ عظیم الشان منصب تھا۔جس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ” میں تو صرف ایک مبلغ بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ہدایت اللہ ہی دیتا ہے۔پس تم میں سے جس شخص کو مجھ سے کوئی چیز حسن رغبت اور حسین ہدایت کے ساتھ پہنچے تو اس میں یقینا اس کے لئے برکت رکھی جائے گی۔‘ (احمد )1 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ میں دعوت الی اللہ کا جو دردتھا اور دنیا کی ہدایت کی جو فکر تھی اس کا اندازہ آپ کے اس ارشاد سے ہوتا ہے کہ ”لوگو! میری اور تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے جس نے (روشنی کی خاطر ) آگ جلائی۔پروانے اور کیڑے مکوڑے اس پر آ آ کر گرنے لگے۔وہ انہیں پرے ہٹاتا ہے مگر وہ باز نہیں آتے اور اس میں گرتے چلے جاتے ہیں۔میں بھی تمہاری کمر سے پکڑ پکڑ کر تمہیں آگ میں گرنے سے بچانا چاہتا ہوں اور تم ہو کہ دیوانہ وار اس آگ کی طرف بھاگے چلے جاتے ہو۔( بخاری )2 خدا کا پیغام پہنچانے کی خاطر رسول اللہ نے حکمت کی تمام راہیں اختیار کیں۔ہمیشہ نرم زبان استعمال کی۔عمدہ نصیحت کے ذریعہ دنیا کو اسلام کے حسین پیغام کی طرف بلایا۔بشارتیں اور خوشخبریاں دے کر بھی دعوت دی اور عذاب الہی سے ہوشیار کر کے اور ڈرا کر بھی دنیا کو متنبہ کیا مگر ہمیشہ تو اضع اور عاجزی کی راہ اختیار کرتے ہوئے اتمام حجت کیا۔