اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 168 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 168

اسوہ انسان کامل 168 صداقت شعاری میں رسول اللہ کا بلند مقام ہرگز نہیں۔دانا ہر قل نے اس جواب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں جانتا ہوں یہ ممکن نہیں ہوسکتا کہ اس نے لوگوں کے ساتھ تو کبھی جھوٹ نہ بولا ہو اور خدا پر جھوٹ باندھنے لگ جائے۔( بخاری )9 جانی دشمن نضر بن حارث کی شہادت رسول اللہ کا ایک اور جانی دشمن نضر بن حارث تھا جو دارالندوہ میں آپ کے قتل کے منصوبے میں بھی شامل تھا۔کفار کی مجلس میں جب کسی نے یہ مشورہ دیا کہ ہمیں محمد کے بارے میں یہ مشہور کر دینا چاہئے کہ یہ جھوٹا ہے تو نضر بن حارث سے رہا نہ گیا۔وہ بے اختیار کہ اٹھا کہ دیکھو محمد تمہارے درمیان جوان ہوا، اس کے اخلاق پسندیدہ تھے۔وہ تم میں سب سے زیادہ سچا اور امین تھا۔پھر جب وہ ادھیڑ عم کو پہنچا اوراپنی تعلیم تمہارے سامنے پیش کرنے لگا تو تم نے کہا جھوٹا ہے۔خدا کی قسم! یہ بات کوئی نہیں مانے گا کہ وہ جھوٹا ہے۔وہ ہرگز جھوٹا نہیں ہے۔(ابن ہشام)10 دشمن اسلام اُمیہ بن خلف کی گواہی دشمن رسول امیہ بن خلف نے اپنے جاہلیت کے دوست حضرت سعد بن معاذ انصاری سے اپنی ہلاکت کے بارے میں رسول اللہ کی پیشگوئی سن کر بے ساختہ گواہی دی تھی کہ خدا کی قسم محمدصلی اللہ علیہ وسلم جب بھی بات کرتا ہے۔جھوٹ نہیں بولتا۔“ ( بخاری )11 امیہ کی بیوی کی گواہی حضرت سعد بن معاذ " انصاری نے جب سردار قریش امیہ بن خلف کی بیوی کو بتایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی ہے کہ اس کا خاوند امیہ ہلاک ہو گا تو وہ بے اختیار کہ اٹھی ”خدا کی قسم محمد جھوٹ نہیں بولتے۔چنانچہ جب جنگ بدر کے لئے امیہ ابو جہل کے ساتھ جانے لگا تو بیوی نے پھر کہا تمہیں یاد نہیں تمہارے بیٹر بی بھائی سعد نے تمہیں کیا کہا تھا۔امیہ اس وجہ سے رک گیا مگر ابو جہل باصرار ا سے لے گیا چنانچہ امیہ بن خلف بدر میں مارا گیا اور رسول اللہ ﷺ کی بات کچی ثابت ہوئی۔( بخاری )12 سردار قریش نقشبہ کی گواہی قریش نے ایک دفعہ اپنے ایک سردار عتبہ کو نمائندہ بنا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھجوایا۔اس نے کہا کہ آپ ہمارے معبودوں کو کیوں برا بھلا کہتے اور ہمارے آباء کو کیوں گمراہ قرار دیتے ہیں؟ آپ کی جو بھی خواہش ہے پوری کرتے ہیں۔آپ ان باتوں سے باز آئیں۔حضور تحمل اور خاموشی سے اس کی باتیں سنتے رہے۔جب وہ سب کہہ چکا تو آپ نے سورۃ حم فضلت کی چند آیات تلاوت کیں، جب آپ اس آیت پر پہنچے کہ میں تمہیں عاد و ثمود جیسے عذاب سے ڈراتا ہوں تو عتبہ نے آپ کو روک دیا کہ اب بس کریں اور خوف کے مارے اُٹھ کر چل