اسوہء انسانِ کامل — Page 169
اسوہ انسان کامل 169 صداقت شعاری میں رسول اللہ کا بلند مقام دیا۔اس نے قریش کو جا کر کہا تمہیں پتہ ہے کہ محمد جب کوئی بات کہتا ہے تو کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔مجھے ڈرلگتا ہے کہ کہیں تم پر وہ عذاب نہ آ جائے جس سے وہ ڈراتا ہے۔تمام سردار یہ سن کر خاموش ہو گئے۔(حلبیہ 13 ) اُن سب سردارانِ قریش کی یہ خاموشی اپنی ذات میں اس بات کی گواہی تھی کہ بلاشبہ آپ صادق در استباز ہیں۔یہود مدینہ کی گواہی مسلمانوں اور یہودی قبیلہ بنو قریظہ کے درمیان باہمی تعاون کا معاہدہ تھا مگر جنگ احزاب کے دوران بنونضیر کا سردار حی بن اخطب بنوقریظہ کے سردار کعب بن اسد قرظی کے پاس گیا اور اسے مسلمانوں سے معاہدہ توڑنے اور قریش کی مدد کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تاکہ مسلمانوں کو شکست سے دو چار کیا جائے۔کعب بن اسعد جو بنو قریظہ کا سرداراور مسلمانوں کا دشمن تھا بے اختیار کہ اٹھا ” تم میرے پاس زمانے بھر کی ذلت لے کر آئے ہو میں محمد سے صدق کے سوا کچھ نہیں دیکھا“۔(ابن ہشام)14 عبد اللہ بن سلام مدینہ کے ایک بڑے یہودی عالم تھے۔وہ مسلمان ہونے سے پہلے کا اپنا یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب آنحضور مہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو لوگ دیوانہ وار آپ کو دیکھنے گئے میں بھی ان میں شامل ہو گیا۔آپ کا نورانی چہرہ دیکھ کر ہی میں پہچان گیا کہ یہ چہرہ جھوٹے کا چہرہ نہیں ہوسکتا۔“ ( ابن ماجہ ) 15 ایچ جی ویلز نے رسول اللہ کے صدق وصفا کی گواہی دیتے ہوئے لکھا: ''یہ حمد (ﷺ) کے صدق کی دلیل قاطع ہے کہ ان سے قربت رکھنے والے لوگ اُن پر ایمان لائے ، حالانکہ وہ اُن کے اسرار ورموز سے پوری طرح واقف تھے اور اگر انہیں ان کی صداقت میں ذرہ برابر بھی شبہ ہوتا تو اُن پر وہ ہرگز ایمان نہ لاتے۔( ویلیز ) 16 پس ایک انسان کی سچائی پر اپنوں، پرایوں ، دوستوں اور دشمنوں سب کا اتفاق کر لینا ایسی عظیم الشان شہادت ہے جو ہمارے نبی کی راستبازی اور سچائی کی زبر دست اور روشن دلیل ہے۔