اسوہء انسانِ کامل — Page 144
144 اسوہ انسان کامل رسول اللہ کی قبولیت دعا کے راز (36) حضرت ابو ہریرہ نے یمن سے آکر 7ھ میں اسلام قبول کیا، انہوں نے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میں آپ سے جو باتیں سنتا ہوں بھول جاتا ہوں۔میرے لئے دعا کریں، آپ نے فرمایا ابو ہریرہ چادر پھیلاؤ۔ابو ہریرہ نے چادر پھیلائی آپ نے دعا کی اور پھر وہ چا درابو ہریرہ کو اور ھادی۔ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے کبھی کوئی حدیث نہیں بھولی۔یہی وجہ ہے کہ بہت بعد میں آنے کے باوجود حضرت ابو ہریرہ کی روایات ابتدائی دور کے صحابہ سے بھی زیادہ ہیں۔( ترمذی ) 73 (37) ایک جنگ میں مسلمانوں کو سخت پیاس کا سامنا کرنا پڑا۔پانی میسر نہ تھا۔حضرت عمرؓ نے رسول کریم سے دعا کی درخواست کی۔آپ نے دعا کی۔اچانک ایک بادل اٹھا اور اتنا برسا کہ مسلمانوں کی ضرورت پوری ہوگئی اور پھر وہ بادل چھٹ گیا۔( عیاض) 4 74 (38) اپنے اصحاب کے لئے دلی جوش سے دعا کا ایک اور واقعہ حضرت ابوعامر کے متعلق ہے جو جنگ اوطاس میں امیر مقرر کر کے بھجوائے گئے تھے۔ابو موسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں کہ میرے چا! ابو عامر کو جنگ کے دوران گھٹنے میں تیر لگا۔جب میں نے وہ تیر نکالا تو گھٹنے سے پانی نکلا۔زخم بہت کاری تھا جان لیوا ثابت ہوا۔آخری لمحات میں ابو عامر نے ابوموسیٰ سے کہا اے بھتیجے ! نبی کریم کو میرا سلام کہنا اور میری طرف سے دعائے مغفرت کی خاص درخواست کرنا۔یہ کہا اور جان جاں آفرین کے سپر د کر دی۔ابو موسی یہ پیغام لے کر رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ بیان کیا اور عرض کیا کہ ابو عامر نے دعائے مغفرت کی درخواست کی تھی، تو رسول اللہ اپنے عاشق کی آخری خواہش سن کر بے قرار سے ہو گئے۔فوراً پانی منگوا کر وضو کیا اور ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی۔”اے اللہ اپنے بندے ابو عامر کو بخش دے۔مگر آپ نے اس فدائی کے لئے صرف بخشش کی دعا ہی نہیں مانگی ان کی بلندی درجات کی بھی دعا کی کہ اے اللہ ! قیامت کے دن ابو عامر کو اپنی بہت ساری مخلوق سے بلند مقام اور مرتبہ عطا کرنا۔ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں میں اور نے جو دعا کی یہ مقبول گھڑی دیکھی تو عرض کیا۔حضور ! میرے حق میں بھی دعا کر دیں۔آپ نے دعا کی اے اللہ ! عبد اللہ بن قیس (ابوموسیٰ اشعری) کے گناہ بھی معاف کرنا اور قیامت کے دن اس کو معزز مقام میں داخل کرنا۔( بخاری )75 (39) بے لوث خدمت کے نتیجہ میں دعا کا ایک اور واقعہ حضرت ابوایوب انصاری کا ہے۔غزوہ خیبر سے واپسی پر جب رسول اللہ نے یہودی سردار حیی بن اخطب کی بیٹی صفیہ سے شادی کی حضرت ابوایوب انصاری کے ذہن میں جذبہ عشق رسول اور حفاظت رسول کے خیال سے کچھ اندیشے اور وسوسے پیدا ہوئے اور آپ ساری رات حضور کے خیمہ عروسی کے گرد پہرہ دیتے رہے۔صبح رسول اللہ نے دیکھ کر پوچھا تو دل کا حال عرض کیا کہ آپ کی حفاظت کے لئے از خود ساری رات پہرہ پر کھڑا رہا۔رسول اللہ نے اسی وقت دعا کی کہ اے اللہ ! ابوایوب کو ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھنا جس طرح رات بھر یہ میری حفاظت پر مستعد رہے ہیں“۔یہ دعا بھی قبول ہوئی۔حضرت ابوایوب نے بہت لمبی عمر پائی