اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 139 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 139

اسوہ انسان کامل 139 رسول اللہ کی قبولیت دعا کے راز کیونکہ وہ میری اس حرکت میں شامل نہیں تھے۔اسی اثناء میں رسول اللہ تشریف لائے۔آپ نے حسب عادت سلام کیا۔پہلے اپنی جائے نماز پر جا کر نماز پڑھتے رہے۔پھر اپنے دودھ والے برتن کے پاس گئے ڈھکنا اٹھایا تو اس میں کچھ نہ پایا۔ادھر آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور ادھر مجھے یہ خوف کہ لواب میرے خلاف بد دعا ہوئی اور میں مارا گیا۔مگر آپ نے جو دعا کی وہ بیتھی ”اے اللہ ! جو مجھے کھلائے تو اس کو کھلا جو مجھے پلائے تو خود اس کو پلا اس دعا کا سننا تھا کہ میں فوراً اٹھا چادر اوڑھی اور چھری لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بکریوں کی طرف چل پڑا کہ ذبح کر کے حضور کو کھلا کر آپ کی دعا کا وارث بنوں۔جب میں سب سے موٹی بکری کو ذبح کرنے لگا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کے تھنوں میں دودھ اترا ہوا ہے، حالانکہ شام کو دودھ نکالا تھا پھر جب باقی بکریوں پر نظر کی تو سب کا یہی حال دیکھا۔چنانچہ میں نے بکری ذبح کرنے کا ارادہ ترک کر کے حضور کے گھر سے دودھ کا برتن لیا اور بکریاں دوبارہ دوہ کر اسے بھر لیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔آپ نے جب تازہ دودھ دیکھا تو خیال ہوا کہ ان بیچاروں نے بھی ابھی تک دودھ نہیں پیا ہوگا۔فرمانے لگے کیا تم لوگوں نے آج رات دودھ نہیں پیا۔میں نے بات ٹالتے ہوئے کہا کہ حضور! بس آپ پئیں۔حضور نے کچھ دودھ پی کر باقی مجھے دیتے ہوئے فرمایا کہ اب تم پی لو۔میں نے کہا کہ آپ اور پیئیں۔حضور نے اور پیا اور پھر مجھے دے دیا۔اب دل کو تسلی ہوئی کہ رسول اللہ بھوکے نہیں رہے خوب سیر ہو چکے ہیں اور یہ خوشی بھی کہ آپ کی یہ دعا کہ اے اللہ ! جو مجھے پلائے تو اسے بھی پہلا میرے حق میں قبول ہو چکی ہے۔تب حضور کے دودھ کا حصہ پینے کی اپنی حرکت یاد کر کے مجھے بے اختیار ہنسی چھوٹ گئی ، اتنی ہنسی کہ میں لوٹ پوٹ ہو کر زمین پر گر پڑا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے مقداد! تجھے اپنی کونسی عجیب حرکت یاد آئی ہے جس پر لوٹ پوٹ ہورہے ہو۔میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارا قصہ کہہ سنایا کہ کس طرح آپ کے حصہ کا دودھ بھی پی لیا اپنے حق میں آپ سے دعا بھی کروالی اور دوبارہ دودھ بھی پی لیا۔نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ( قبولیت دعا کے نتیجہ میں ) خاص رحمت کا نزول تھا۔تم نے اپنے ساتھی کو جگا کر اور اس دودھ میں سے پلا کر کیوں نہ ان کے حق میں بھی یہ دعا پوری کروائی میں نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔مجھے اس برکت سے حصہ مل گیا تو میں اس بات سے بے پر واہ ہو گیا کہ کوئی اور اس میں شریک ہوتا ہے کہ نہیں۔( مسلم ) 52 (18) اپنی لخت جگر حضرت فاطمہ کے لئے رسول اللہ نے دعا کی کہ کبھی ان کو بھوک کی تکلیف نہ آئے۔فاطمہ فرماتی ہیں اس کے بعد کبھی مجھے بھوک کی تکلیف نہیں پہنچی۔(سیوطی ) 53 (19) حضرت عبداللہ بن جعفر کی تجارت میں برکت کے لئے حضور نے دعا کی۔جس کا نتیجہ یہ تھا کہ وہ کوئی چیز خرید تے تو اس میں نفع پاتے۔(سیوطی ) 54