اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 138 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 138

اسوہ انسان کامل 138 رسول اللہ کی قبولیت دعا کے راز حضرت انس خود بیان کرتے تھے کہ خدا نے یہ دعا میرے حق میں خوب قبول فرمائی۔میرا باغ سال میں دو مرتبہ پھل دیتا ہے اور میری زندگی میں میری اولاد بیٹے، بیٹیاں، پوتے نواسے نواسیاں سب ملا کر اسی سے بھی زائد ہیں۔حضرت انس نے 103 سے 110 سال عمر پائی۔( ابن اثیر ) 50 (16) حضرت جابر کے والد حضرت عبداللہ احد میں شہید ہو گئے تھے اور ان کے ذمہ یہودی ساہوکاروں کا کچھ قرض تھا جس کا وہ حضرت جابڑ سے سختی سے مطالبہ کر رہے تھے۔یہاں تک کہ حضرت جابر نے ان کو قرض کے عوض یہ پیشکش کر دی کہ اس سال ان کے کھجوروں کے باغ کا سارا پھل قرض خواہ لے کر قرض سے بری الذمہ قرار دیدیں۔مگر یہودی بنیئے نے رسول اللہ کی سفارش کے باوجود بھی ایسا کرنے سے انکار کیا تو رسول کریم نے باغ میں تشریف لا کر دعا کی۔اس دعا کی برکت سے کھجور کا اتنا پھل ہوا کہ قرض ادا کر کے بھی نصف کے قریب کھجور بچ رہی۔جب حضرت ابوبکر کو اس کا پتہ چلا تو انہوں نے یہ تبصرہ کیا کہ رسول اللہ نے جب باغ میں جا کر دعا کی تھی اس وقت ہی ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کے پھل میں خارق عادت برکت دے گا۔( بخاری ) 51 (17) حضرت مقداد بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرے دو ساتھی بھوک اور فاقوں سے ایسے بدحال ہوئے کہ سماعت و بصارت بھی متاثر ہو گئی۔پھر رسول اللہ کی معجزانہ دعا سے ہماری سیری کے سامان ہوئے۔مقداد اپنی اس وقت کی مالی تنگی کا حال بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرے پاس صرف ایک اوڑھنے کی چادر تھی وہ بھی اتنی مختصر کہ سرڈھانپتا تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور پاؤں ڈھانکتا تو سر نگار رہتا تھا۔ہم نے محتاجی کے اس عالم میں صحابہ رسول سے مدد چاہی مگر کوئی بھی ہمیں مہمان بنا کر پاس نہ رکھ سکا۔بالآخر ہم رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔حضور ہمیں اپنے گھر لے گئے۔آپ کے گھر میں تین بکریاں تھیں۔آپ نے فرمایا ان بکریوں کا دودھ دوہ لیا کرو۔ہم چاروں پی لیا کریں گے چنانچہ یوں گزارہ ہونے لگا۔ہم تینوں دودھ کا اپنا حصہ پی کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ بچا کر رکھ لیتے تھے۔آپ رات کو تشریف لاتے۔پہلے ملکی آواز میں سلام کرتے کہ سونے والے جاگ نہ جائیں اور جاگنے والا سن لے۔پھر اپنی جائے نماز پر نماز پڑھ کر اس جگہ آتے جہاں آپ کے لئے دودھ رکھا ہوتا تھا۔آپ خود دودھ لے کر نوش فرماتے۔ایک رات شیطان نے میرے دل میں کیا خیال ڈالا کہ اپنے حصہ کا دُودھ پی کر میں سوچنے لگا کہ یہ جو حضور کے لئے تھوڑا سا دودھ پڑا ہے اس کی آپ کو ضرورت ہی کیا ہے۔آپ کی خدمت میں تو انصار تحفے پیش کرتے رہتے ہیں اور آپ اس سے کھا پی لیتے ہوں گے۔یہ سوچ کر میں نے حضور کے حصہ کا دودھ بھی پی لیا۔جب اس سے خوب پیٹ بھر چکا تو فکر ہونے لگی کہ اب رسول کریم کیلئے کوئی دودھ باقی نہیں رہا اور اپنے کئے پر سخت ندامت سے اپنے آپ کوکو سنے لگا کہ میرا برا ہو میں نے یہ کیا کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ بھی ہڑپ کر گیا۔اب رسول کریم آئیں گے اور حسب معمول جب دودھ اس جگہ نہیں ملے گا تو ضرور میرے خلاف کوئی بد دعا کریں گے اور میری دنیا و آخرت تباہ ہو جائے گی۔اسی مخمصے اور بے چینی میں میری نیند اڑ گئی تھی ، جبکہ میرے دونوں ساتھی میٹھی نیند سورہے تھے