اسوہء انسانِ کامل — Page 137
اسوہ انسان کامل 137 رسول اللہ کی قبولیت دعا کے راز جو اس اونٹنی کو دھکیل کر آپ کے پاس واپس لے آیا۔(عیاض ) 46 اہل مدینہ کیلئے دعا ئیں (13) جب رسول اللہ مکہ سے ہجرت کر کے بیٹرب تشریف لائے تو یہ ایک وبائی علاقہ تھا جس کی وجہ سے کئی صحابہ حضرت ابوبکر، حضرت بلال ، اور حضرت عائشہ وغیرہ بیمار پڑ گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت خدا کے حضور دعا کی کہ اے مولیٰ ! اس وبائی علاقہ کی وباء دور کر دے اور اس شہر کے رزق میں برکت عطا فرما۔( بخاری 47 ) یہ دعا جس طرح قبول ہوئی خود شہر مدینہ کی آبادی و شادابی اس پر شاہد ناطق ہے۔(14) ایک دفعہ مدینہ میں سخت قحط پڑ گیا، ایک شخص نے خطبہ جمعہ میں کھڑے ہوکر نہایت لجاجت سے ہاران رحمت کے لئے یوں درخواست دعا کی کہ اے اللہ کے رسول ! مال مویشی خشک سالی سے ہلاک ہو گئے اور راستے ٹوٹ گئے۔آپ دعا کریں کہ خدا بارش دے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی وقت ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا کی کہ اے اللہ ! ہماری خشک سالی دور کر اور ہم پر بارش برسا۔حضرت انس کہتے ہیں کہ اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آتا تھا اور مطلع بالکل صاف تھا۔اچانک سلع کی پہاڑیوں کے پیچھے سے چھوٹی سی ایک بدلی اٹھی جو وسط آسمان میں آکر پھیلی ، پھر وہ برسی اور خوب برسی یہاں تک کہ ایک ہفتہ تک ہم نے سورج کی شکل نہ دیکھی۔اگلے خطبہ جمعہ کے دوران پھر ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اب تو بارش کی کثرت سے مال مویشی مرنے لگے ہیں اور سیلاب سے رستے بہ رہے ہیں۔دعا کریں کہ اب بارش تھم جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی کہ اے اللہ ! ان بادلوں کو ہمارے ارد گرد لے جا۔ہم پہ نہ برسا۔ان کو پہاڑوں ،ٹیلوں، وادیوں اور درختوں پر لے جا۔تب اسی وقت معجزانہ رنگ میں بارش تھم گئی اور ہم جمعہ کے بعد باہر نکلے تو دھوپ نکل چکی تھی۔( بخاری ) 48 رزق اور مال میں برکت کی دعائیں رسول کریم ﷺ کی معجزانہ دعاؤں کے اثرات اور برکات مال اور رزق میں خارق عادت برکت کے رنگ میں بھی ظاہر ہوئے۔(15) حضرت انس بن مالک انصاری دس برس کے تھے کہ والدین نے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں ذاتی خادم کے طور پر پیش کر دیا۔ایک دفعہ حضرت انس کی والدہ حضرت ام سلیم نے آکر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! یہ انس آپ کا خادم ہے، اس کے لئے اللہ سے دعا کریں۔آپ نے اسی وقت انس کو دعا دی کہ اے اللہ ! انس کے مال واولاد میں برکت دینا اور جو کچھ تو اسے عطا کرے اس میں برکت ڈالنا۔( بخاری ) 49