اسوہء انسانِ کامل — Page 125
اسوہ انسان کامل 125 رسول اللہ کی قبولیت دعا کے راز صفا مروہ پر دعا مسجد نبوی اور بیت المقدس میں دعا مشعر الحرام اور میدان عرفات میں دعا اس جگہ قبولیت دعا کے ان جملہ مواقع اوقات و حالات اور تعلقات کے بارہ میں رسول کریم میہ کے بعض ارشادات بیان کرنے مناسب ہوں گے۔1۔نماز تہجد کا وقت خاص قبولیت دعا کا وقت ہوتا ہے۔رسول کریم فرماتے ہیں کہ ” ہمارا رب ہر رات کو جب آخری تہائی شب باقی رہ جائے ، نچلے آسمان پر اتر آتا ہے اور کہتا ہے کہ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا کو قبول کروں۔کون ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اس کو عطا کروں۔کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے اور میں اسے بخش دوں۔( بخاری )1 بعض روایات میں آدھی رات گزر جانے کے بعد اور بعض میں ایک تہائی رات کے بعد اللہ تعالیٰ کے نچلے آسمان پر اُتر آنے کا ذکر ہے۔حضرت ابوامامہ باہلی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سی دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں۔آپ نے فرمایا کہ رات کے آخری حصہ میں سب سے زیادہ قبولیت دعا کا وقت ہوتا ہے۔اس کے بعد فرض نمازوں کے معاً بعد کے اوقات بھی خاص قبولیت کے ہیں۔“ ( ترمذی )2 2۔اذان کے وقت کی دعا کے بارے میں حضرت سہل کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دو ایسے اوقات ہیں جن میں دعا رد نہیں کی جاتی ایک اذان کے وقت، دوسرے جنگ کے دوران جب دشمن سے سخت مقابلہ جاری ہو۔“ ( ابوداؤد ) 3 حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا کبھی رو نہیں کی جاتی۔کسی نے پوچھا اس وقت کون سی دعا کرنی چاہیے۔فرمایا’ دنیا و آخرت کی بھلائی مانگو۔( ترمذی )4 3۔ختم قرآن کا وقت بھی خاص قبولیت کے اوقات میں سے ہے۔رسول کریم نے فرمایا کہ جب بندہ قرآن کریم ختم کرتا ہے تو اس وقت ساٹھ ہزار فرشتے اس کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔اس موقع پر آپ نے قبر کی وحشت سے مانوسیت اور حصول رحمت باری کی دعا رسول اللہ نے سکھلائی۔ایک اور روایت میں ہے کہ ختم قرآن کا وقت نزول رحمت کا وقت ہوتا ہے۔(شوکانی )5 4۔آنحضرت ﷺ نے اپنی امت کو جمعہ کی ایک خاص گھڑی کا بتایا جس میں دعا ئیں خاص طور پر قبول ہوتی ہیں۔اس گھڑی کا وقت خطبہ جمعہ سے لے کر جمعہ کے دن کے ختم ہونے تک بیان کیا گیا ہے۔خاص طور پر خطبہ جمعہ اور