اسوہء انسانِ کامل — Page 119
119 رسول کریم کی قرآن کریم سے گہری محبت اور عشق اسوہ انسان کامل دوسری روایت میں ذکر ہے کہ جبریل رسول کریم کے ساتھ ہر سال رمضان میں ایک بار قرآن کریم کا دور مکمل کرتے تھے۔مگر حضور کی وفات کے آخری سال انہوں نے دودفعہ قرآن کریم کا دور آپ کے ساتھ مکمل کیا۔( بخاری 16 ) اور یہ آپ کی آخری سنت تھی۔تلاوت قرآن اور خشیت الہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جن کو علم دیا گیا ہے۔جب ان پر رحمان خدا کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ روتے ہوئے خدا کے حضور ٹھوڑیوں کے بل سجدہ ریز ہو جاتے ہیں اور اللہ خشوع میں انہیں اور بڑھا دیتا ہے۔(بنی اسرائیل: 110) دوسری جگہ فرمایا کہ قرآن کا کلام سن کر اُن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔(سورۃ الزمر:24) ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کون اس مضمون کا مصداق ہوسکتا ہے جو سب سے بڑھ کر خدا ترس تھے۔قرآن پڑھتے اور سنتے ہوئے آپ کی کیفیت بھی یہی ہوتی تھی۔نبی کریم قرآن شریف کے مضامین میں ڈوب کر تلاوت کرتے تھے اور اس کے گہرے اثرات آپ کی طبیعت پر ہوتے تھے۔ایک دفعہ حضرت ابو بکر نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کے بالوں میں سفیدی جھلکنے لگی ہے فرمایا ہاں ! مجھے سورۃ ھود، الواقعہ، المرسلات النبا اور النگو میر نے بوڑھا کر دیا۔(ترمذی) 17 ان سورتوں میں گزشتہ قوموں کا ذکر ہے جن پر احکام خداوندی اور اس کے رسولوں کے انکار کی وجہ سے عذاب آیا اور وہ ہلاک ہوئیں ) رسول کریم نے بعض مواقع پر صحابہ کوسوز وگداز سے بھری آواز میں قرآن کریم کی تلاوت سنائی۔ذرا تصور کریں وہ کیا عجب سماں ہوگا اور کیسی بابرکت محفل ہوگی جس میں اس پاک وجود نے جس کے دل پر قرآن اترا۔سورہ رحمان جسے عروس القرآن (قرآن کی دلہن ) کا خطاب آپ نے دیا خود صحابہ کو خوش الحانی سے سنائی۔یقینا اس وقت آسمان کے فرشتے بھی ہمہ تن گوش ہوں گے اور خدائے ذوالعرش کی بھی محبت کی نظریں آپ پر پڑتی ہوں گی۔اس دلکش واقعہ کا ذکر حضرت جابر یوں بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم نے ایک دفعہ انہیں سورہ رحمان تلاوت کر کے سنائی۔صحابہ محو حیرت ہو کر خاموشی سے سنتے رہے۔رسول کریم نے سورت کی تلاوت مکمل ہونے پر اس سکوت کو توڑتے ہوئے فرمایا کہ میں نے ایک قوم جن کو جب یہ سورت سنائی تو انہوں نے تم سے بھی بہتر نمونہ دکھایا۔جب بھی میں نے فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ کی آیت پڑھی جس کا مطلب ہے کہ تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے تو وہ قوم جواب میں کہتی تھی۔لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ وَلَكَ الْحَمْدُ یعنی اے ہمارے رب ہم تیری نعمتوں میں سے کسی چیز کو جھٹلاتے نہیں اور سب تعریفیں تیرے لئے ہیں۔(ترمذی)18