اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 118 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 118

118 رسول کریم کی قرآن کریم سے گہری محبت اور عشق اسوہ انسان کامل جس کے بعد انسان کے دل میں بے اختیار اللہ تعالیٰ کی عبادت کا شوق اور جوش و ولولہ بیدار ہوتا ہے۔( بخاری )8 اسی طرح رات کو بستر پر جاتے ہوئے بھی قرآن کے مختلف حصوں کی تلاوت رسول کریم سے ثابت ہے۔حضرت عائشہ کی ایک روایت کے مطابق نبی کریم آخری تین سورتوں کی تلاوت کر کے ہاتھوں میں پھونکتے اور اپنے جسم پر پھیر کر سو جاتے۔( بخاری ) حضرت جابر کے بیان کے مطابق سونے سے قبل آنحضرت ملالہ سورہ الم السجدہ اور سورہ ملک کی تلاوت کرتے تھے۔(ترندی) 10 حضرت عائشہ کی دوسری روایت یہ ہے کہ سونے سے قبل رسول اللہ سورہ زمر اور بنی اسرائیل کی بھی تلاوت کرتے 11(1)- حضرت عرباض بن ساریہ کی روایت کے مطابق رسول کریم بستر پر جاتے ہوئے وہ سورتیں پڑھتے تھے جواللہ کی تسبیح کے ذکر سے شروع ہوتی ہیں ( یعنی الحدید، الحشر، الصف الجمعہ التغابن اور الاعلیٰ ) اور فرماتے تھے ان میں ایک ایسی آیت ہے جو ہزار آیتوں سے بہتر ہے۔(احمد) 12 حضرت خباب کا بیان ہے کہ رسول کریم بستر پر جانے سے قبل سورۃ کافرون سے لے کر آخر تک تمام سورتیں اللهب ، النصر ، الاخلاص الفلق الناس ) پڑھ کر سوتے تھے۔( صیمی ) 13 حضرت عوف بن مالک انجھی کہتے ہیں کہ ایک رات مجھے نبی کریم ﷺ کے ساتھ رات کو عبادت کرنے کی توفیق ملی۔آپ نے پہلے سورہ بقرہ پڑھی۔آپ کسی رحمت کی آیت سے نہیں گزرتے تھے مگر وہاں رک کر دعا کرتے اور کسی عذاب کی آیت سے نہیں گزرے مگر رک کر پناہ مانگی۔پھر نماز میں قیام کے برابر آپ نے رکوع فرمایا۔جس میں تسبیح وتحمید کرتے رہے۔پھر اسی قیام کے برابر سجدہ کیا۔سجدہ میں بھی یہی تسبیح اور دعا پڑھتے رہے۔پھر کھڑے ہو کر آل عمران کی تلاوت کی۔پھر اس کے بعد ہر رکعت میں ایک ایک سورۃ پڑھتے رہے۔(ابوداؤد ) 14 رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے۔اس میں قرآن شریف کی تلاوت اور تدبر کا شغف اپنی معراج پر ہوتا تھا۔حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم نیکیوں میں سب لوگوں سے سبقت لے جانے والے تھے اور سب سے زیادہ آپ کی یہ شان رمضان میں دیکھی جاتی تھی۔جب جبریل آپ سے ملاقات کرتے تھے اور یہ ملاقات رمضان کی ہر رات کو ہوتی تھی۔جس میں وہ رسول کریم سے قرآن کریم کا دور کرتے تھے یعنی آپ سے قرآن سنتے بھی تھے اور سناتے بھی تھے۔اس زمانے میں رسول اللہ کی نیکیوں کا عجب عالم ہوتا تھا۔آپ تیز آندھی سے بھی بڑھ کر سخاوت فرماتے تھے۔(بخاری)5 15