اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 83 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 83

اسوہ انسان کامل 83 حق بندگی ادا کرنے والا۔۔۔۔عبد کامل دعوی نبوت کے بعد کفار مکہ نبی کریم کو عبادت سے روکتے اور تکالیف دیتے۔ظالموں نے ایک دن حالت سجدہ میں اونٹنی کی غلیظ نجاست سے بھری ہوئی بھاری بھر کم بچہ دانی رسول اللہ کی پشت پر ڈال دی۔( بخاری ) 7 ایک بد بخت نے ایک دن حضور کے گلے میں چادر ڈال کر مروڑ نا شروع کیا اور گردن دبوچنے لگا۔دم گھٹنے کو تھا کہ حضرت ابو بکر نے اسے دھکا دیکر ہٹایا اور کہا ” کیا تم ایک شخص کو اس لئے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے اللہ میرا ارب ہے۔مگر آپ عبادت سے کب باز آ سکتے تھے۔( بخاری )8 اہتمام نماز نماز تو رسول کریم کا روزانہ و شبانہ کا وہ معمول تھا جس میں آپ کی روح کی غذا تھی۔ہر چند کہ امت کی سہولت کی خاطر رسول اللہ نے یہ رخصت دی کہ کھانا چنا جا چکا ہو تو کھانے سے فارغ ہو کر پھر نماز ادا کرلو۔مگر اپنا یہ حال تھا کھانا کھاتے ہوئے بلال کی آواز سنی کہ نماز کا وقت ہو گیا تو صرف اتنا کہا ” اسے کیا ہوا اللہ اسکا بھلا کرے۔“ (یعنی کھانا تو کھا لینے دیا ہوتا ) مگر اگلے ہی لمحے وہ چھری جس سے بھنا ہوا گوشت کاٹ رہے تھے وہیں پھینک دی اور سیدھے نماز کیلئے تشریف لے گئے۔(ابوداؤد) حضرت عائشہ آپ کا معمول یہ بیان فرماتی تھیں کہ نماز کیلئے بلال کی اطلاعی آواز پر آپ بلا توقف مستعد ہوکر اٹھتے اور نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔( بخاری ) 10 بیماری میں بھی نماز ضائع نہ ہونے دیتے۔ایک دفعہ گھوڑے سے گر جانے کے باعث جسم کا دایاں پہلو شدید زخمی ہو گیا۔کھڑے ہو کر نماز ادا نہ فرما سکتے تھے۔بیٹھ کر نماز پڑھائی مگر با جماعت نماز میں ناغہ پسند نہ فرمایا۔( بخاری ) 11 سفر میں بھی نماز کا خاص اہتمام ہوتا تھا۔روایات حدیث کے مطابق زندگی بھر میں صرف دو مواقع ایسے آئے کہ جن میں بعض صحابہ کو رسول کریم کی غیر موجودگی میں نماز پڑھانے کی نوبت آئی۔ایک موقعہ وہ تھا جب آنحضرت بنی عمرو بن عوف میں مصالحت کے لئے تشریف لے گئے۔اور جیسا کہ ہدایت فرما گئے تھے تاخیر کی صورت میں کچھ انتظار کے بعد حضرت ابو بکر نے حضرت بلال کی درخواست پر نماز پڑھانی شروع کی۔اتنے میں آپ تشریف لے آئے۔حضرت ابو بکر پیچھے ہٹ گئے اور آپ نے خود امامت کروائی۔(ابوداؤد )12 دوسرا موقع وہ ہے جب ایک سفر میں آپ قافلے سے پیچھے رہ گئے تو حضرت عبدالرحمان بن عوف نے نماز فجر قضا ہونے کے اندیشہ سے شروع کروائی اور آپ پیچھے سے آکر شامل ہو گئے۔آپ نے بر وقت نماز ادا کرنے پر صحابہ سے اظہار خوشنودی فر مایا۔(مسلم )13