اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 82 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 82

اسوہ انسان کامل 82 حق بندگی ادا کر نے والا۔۔۔۔عبد کامل عین عالم جوانی میں حضرت محمد دین ابراہیمی اور عربوں کے دستور کے مطابق سال میں ایک ماہ اعتکاف فرماتے تھے۔عمر کے چالیسویں سال میں آپ رمضان کے مہینہ میں غار حراء میں اعتکاف فرما ر ہے کہ تھے آپ پر پہلی وحی نازل ہوئی۔(ابن ہشام )2 نماز کی عبادت جبریل نے ابتدائی وحی کے بعد نبی کریم ﷺ کو وضو کر کے دکھایا اور اس کا طریق سکھا کر آپ کو نماز پڑھائی۔آنحضور نے حضرت خدیجہ کو وضو کا طریق سکھا کر نماز پڑھائی جس طرح جبریل نے آپ کو سکھایا تھا۔(ابن ہشام ) 3 الغرض مکی دور کے آغاز میں ہی حضرت جبریل نے نبی کر یم ﷺ کو پانچ نمازوں کی امامت کروا کے نماز کا طریق اور اوقات سمجھا دیے تھے۔(ترمذی)4 رسول کریم کو منصب نبوت عطا ہوا تو عبادت کی ذمہ داری اور بڑھ گئی۔ارشاد ہوا۔فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبُ 0 وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبُ (سورة الانشراح:8,9) کہ جب تو دن بھر کی ذمہ داریوں سے فارغ ہو تو رات کو اپنے رب کے حضور کھڑا ہو جا اور اس کی محبت سے تسکین دل پایا کر۔حضرت عائشہ کی روایت کے مطابق آغاز میں نماز دو دو رکعت ہوتی تھی۔مدینہ ہجرت کے بعد چار رکعت ہوگئی۔( بخاری )5 فرضیت نماز کے روز اول سے لے کر تادم واپسیں آپ نے اَقِمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ الَّليْلِ وَ قُرْآنَ الْفَجْرِ ( سورة بنی اسرائیل : 79) میں پنج وقت نمازوں کی ادائیگی کے حکم کی تعمیل کا حق ایسا ادا کر کے دکھایا کہ خود خدا نے گواہی دی کہ آپ کی نمازیں، عبادتیں اور مرنا اور جینا محض اللہ کی خاطر ہو چکا ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔(سورۃ الانعام: 163) رسول اللہ پر آغا ز رسالت میں ابھی حضرت خدیجہ اور حضرت علی ہی ایمان لائے تھے کہ آپ نے ان کے ساتھ نماز با جماعت کی ادائیگی کا سلسلہ شروع فرما دیا۔پھر عمر بھر سفر و حضر ، بیماری و صحت ، امن و جنگ غرض کہ ہر حالت عسر و یسر میں اس فریضہ کی بجا آوری میں کبھی کوئی کوتاہی نہیں ہونے دی۔ابتدا آپ کفار کے فتنہ کے اندیشہ سے چھپ کر بھی نماز ادا کرتے رہے۔کبھی گھر میں پڑھ لیتے تو کبھی کسی پہاڑی گھائی میں۔البتہ چاشت کی نما زعلی الاعلان کعبہ میں ادا کرتے۔( بخاری ) 6