اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 75 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 75

اسوۃ انسان کامل 75 رسول اللہ کی محبت الہی و غیرت توحید یہاں آپ کی غیرت توحید ایک اور رنگ میں ظاہر ہوئی۔خدشہ تھا کہ آپ کو مافوق البشر مخلوق نہ خیال کر لیا جائے اس لئے اپنی صداقت کی گواہی کے ساتھ یہ وضاحت فرما دی کہ میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں اور ایک انسان ہوں۔یہ رعب بھی خداداد ہے اور یہ حفاظت خدا تعالیٰ کی عطا کردہ۔رسول اللہ ﷺ کو قیام تو حید اور احکام الہی کی بڑی غیرت تھی۔طائف سے ثقیف قبیلہ کا وفد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔انہوں نے بعض احکام میں رخصت کی شرط پر اسلام قبول کرنے کی حامی بھری اور عرض کیا کہ نماز معاف اور زنا ، شراب اور سود حلال کر دیا جائے۔رسول کریم نے اس کی اجازت نہیں دی اور فرمایا ”وہ دین ہی کیا ہے جس میں نماز نہیں“۔اسی طرح اہل طائف نے اپنے بہت ”لات کے بارہ میں جسے وہ رتبہ یعنی دیوی کہتے تھے عرض کیا کہ تین سال تک اسے توڑا نہ جائے۔رسول اللہ کی غیرت تو حید نے یہ مداہنت بھی قبول نہیں فرمائی۔اہل طائف نے عرض کیا کہ ایک سال تک ہی اسے نہ گرا ئیں۔رسول اللہ نے پھر بھی انکار کیا۔انہوں نے کہا چلیں ایک ماہ تک اسے نہ گرانے کی اجازت دے دیں تا کہ لوگ اسلام میں داخل ہو جائیں اور بے وقوف لوگ اور عورتیں اسے گرانے کی وجہ سے اسلام سے دور نہ ہوں، لیکن رسول اللہ نے اس کی بھی رخصت نہیں دی اور حضرت ابوسفیان اور حضرت مغیرہ بن شعبہ کو بھجوا کر اس بت کو گر وادیا۔( الحلبیہ ( 42 رسول کریم کی تو ہر بات کی تان توحید الہی اور عظمت باری پر جا کر ٹوٹتی تھی۔آپ کی اونٹنی عضاء بہت تیز رفتار تھی جس سے آگے کوئی اور اونٹنی نہ نکل سکتی تھی۔ایک دفعہ ایک اعرابی نے اپنی اونٹنی اُس کے ساتھ دوڑائی اور آگے نکل گیا۔صحابہ کو بڑا رنج ہوا مگر رسول کریم نے عجب طمانیت کے ساتھ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ دنیا کی کسی بھی چیز کو اونچا کرتا ہے تو لا زم ہے کہ اسے نیچا بھی کرے کیونکہ سب سے اونچی خدا کی ذات ہے۔(ابوداؤد )43 نبی کریم کی پشت پر گوشت کا ابھرا ہوا ایک ٹکڑا تھا۔ابورمثہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے نبی کریم کو کہا کہ یہ جو آپ کی پشت میں اُبھا رسا ہے ذرا مجھے دکھا ئیں کیونکہ میں طبیب آدمی ہوں۔اُس کا مطلب تھا کہ میں اس کا علاج کر کے ٹھیک کردوں گا۔نبی کریم نے کس غیرت سے فرمایا کہ اصل طبیب تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے آپ ایک دوست اور ساتھی ہو۔اس کا طبیب وہی ہے جس نے اسے پیدا کیا۔(ابوداؤد )44 رسول کریم فرماتے تھے کہ للہ فرماتا ہے، کبریا، یعنی بڑائی میرا لباس ہے، عظمت میرا اوڑھنا ہے جو کوئی ان دونوں میں میرے ساتھ مقابلہ کرے گا میں اسے آگ میں پھینکوں گا۔(ابو داؤد ) 5 نبی کریم نے نجران کے عیسائی وفد کے سامنے تو حید باری کا مضمون خوب بیان کیا۔انہوں نے سوال کیا کہ آپ اپنے رب کے بارے میں ہمیں بتائیں وہ زبر جد ہے؟ یا قوت ہے؟ سونا ہے یا چاندی؟ رسول کریم نے فرمایا میرا رب ایسی 45