اسوہء انسانِ کامل — Page 60
اسوہ انسان کامل 60 شمائل نبوی میں مصائب پر مدد کرنے والے ہیں اس لئے آپ جیسے انسان کو اللہ ضائع نہیں کرے گا۔( بخاری ) 101 پھر حضرت عائشہ کا آپ کے اخلاق کے بارہ میں بیان ہے کہ آپ کبھی مخش کلامی نہ فرماتے تھے۔نہ ہی بازاروں میں آوازے کسنا آپ کا شیوہ تھا۔آپ بدی کا بدلہ بدی سے نہیں لیتے تھے بلکہ عفو اور درگذر سے کام لیتے تھے۔( بخاری )102 صحابہ بیان کرتے ہیں کہ سب لوگوں کے محبوب ترین انسان آپ تھے۔(احمد) 103 جب کبھی آپ مے کو دو معاملات میں اختیار دیا جاتا تو آسان امر کو اختیار کرتے۔آپ سے زیادہ اپنے نفس پر ضبط کر نیوالا کوئی نہ تھا۔( بخاری )104 حیا ایسی تھی کہ آپ کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ حیادار تھے۔( احمد ) 105 حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول کریم سب سے بڑھ کر سخی تھے۔( مسلم ) 106 جب بھی آپ سے سوال کیا گیا آپ نے عطا فرمایا۔( احمد ) 107 مال فئی ( غنیمت) جس روز آتا اسی روز تقسیم فرما دیتے تھے۔تو کل ایسا تھا کہ کبھی کل کے لئے کچھ بچا کر نہ رکھتے تھے۔( بخاری )108 آپ تمام لوگوں سے بڑھ کر زاہد اور دنیا سے بے رغبت تھے (احمد 109 ) اپنے آپ کو دنیا میں ایک مسافر سمجھتے تھے جوسستانے کے لئے ایک درخت کے نیچے آرام کیلئے کچھ دیر کتا اور پھر آگے روانہ ہو جاتا ہے۔( ترندی )110 شجاعت ایسی تھی کہ جنگوں میں تن تنہا بھی مرد میدان بن کر لڑے اور کبھی قدم پیچھے نہ ہٹایا۔اجمع الناس اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔(مسلم) 111 آپ کا عضو ایسا کہ جانی دشمنوں اور قاتلانہ حملہ کرنے والوں کو بھی معاف کر دیا۔( بخاری )112 الغرض رسول کریم نے جامع اخلاق فاضلہ تھے۔آپ صفات الہیہ کے مظہر اتم تھے۔آپ خلق عظیم پر فائز تھے اور بنی نوع انسان کے لئے ایک خوبصورت اور کامل نمونہ تھے۔ایسا نمونہ جس کی پیروی کی برکت سے آج بھی خدا مل سکتا ہے اور آج بھی وہ ہمارا خالق و مالک یہ پاکیزہ اخلاق نبوی اپنے بندوں میں دیکھ کر ان سے محبت کرنے لگ جاتا ہے۔سچ ہے۔محمد ھی نام اور محمد هی کام عَلَيْكَ الصَّلوةُ عَلَيْكَ السّلام