اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 54 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 54

اسوہ انسان کامل 54 شمائل نبوی ہوتے۔عام حالات میں جمعہ وغیرہ کے موقع پر عصا ہاتھ میں ہوتا۔( ابن ماجہ 58) بعد میں منبر بن گیا تو اس پر خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔آپ جو کہتے تھے وہ کر کے بھی دکھاتے تھے۔گفتگو میں الفاظ کے چناؤ میں بہت احتیاط سے کام لیتے تھے اور الفاظ کے بے محل استعمال کی اصلاح فرما دیتے عرب میں غلام اپنے آقاؤں کو رب کہتے تھے جس کے معنے ہیں پالنے والا۔اور جو حقیقی معنی میں اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔آپ نے فرمایا کہ آقا کو سید کہا کرو۔یعنی سردار۔آقا اپنے غلام کو معبد کہتے تھے یعنی نوکر۔فرما یافتی کہہ کر مخاطب کرو۔یعنی نوجوان یا بچے تا کہ ان کی عزت نفس قائم رہے۔( بخاری 59) نبی کریم کو زبان وادب کا عمدہ ذوق تھا۔آپ موزوں کلام اور عمدہ شعر پسند فرماتے اور داد دیتے تھے۔حضرت شریڈ سے روایت ہے کہ میں ایک دن رسول کریم کے ساتھ آپ کی سواری کے پیچھے بیٹھا۔آپ نے فرمایا تمہیں مشہور شاعر امیہ بن الصلت کے کوئی شعر یاد ہیں؟ میں نے اثبات میں جواب دیا تو آپ نے کچھ شعر سنانے کی خواہش کی۔میں نے ایک شعر سنایا تو فرمایا ہاں اور سناؤ پھر ایک شعر سنایا تو فرمایا اور سناؤ۔یہاں تک کہ میں نے سوشعر سنائے۔(مسلم 60) رسول کریم اشعار کی محض ظاہری فصاحت پر خوش نہ ہوتے بلکہ ان کے مضامین کی گہرائی اور لطافت پر نظر ہوتی اور کہیں کوئی بات کھٹکتی تو دریافت فرمالیتے۔مشہور شاعر نابغہ ابولیلی نے حاضر خدمت ہو کر جب اپنا کلام سنایا اور یہ شعر پڑھا۔عَلَوْنَا العِبَادَعِفَّةً وَتَكَرُّمًا وَإِنَّا لَنَرْجُوا فَوقَ ذَلِكَ مَظْهَرا یعنی اسلام قبول کر کے ہم تمام دنیا سے عفت اور عزت میں بلند ہو گئے ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر ایک ” مظہر کی اُمید رکھتے ہیں۔جہاں اللہ تعالیٰ ہماری اور عزت و کرامت ظاہر فرمائے گا۔رسول کریم نے فوراً پوچھا ” مظہر سے تمہاری کیا مراد ہے؟ نابغہ نے عرض کیا یا رسول اللہ جنت مراد ہے۔فرمایا ہاں ٹھیک ہے اگر اللہ نے چاہا تو ضرور یہ نعمت بھی عطا ہوگی۔اور جب نابغہ کلام سنا چکے تو رسول کریم نے فرمایا تم نے بہت خوب کہا اور پھر ان کو دعا بھی دی۔(بیشمی )61 حضرت عائشہ سے پوچھا گیا کہ نبی کریم کبھی شعر وغیرہ بھی گنگناتے تھے تو فرمانے لگیں کہ ہاں ! اپنے صحابی شاعر عبد اللہ بن رواحہ کے شعر گنگناتے تھے۔مثلاً یہ مصرع وَيَاتِيكَ بِالَا خُبَارِ مَالَمْ تُزَوّد کہ تیرے پاس ایسی ایسی خبریں آئیں گی جو پہلے تمہیں میتر نہیں۔(ترمندی )62 حضرت جندب بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں نبی کریم پیدل جارہے تھے۔پتھر کی ٹھوکر لگنے سے ایک انگلی زخمی