اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 640 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 640

نبیوں میں سب سے بزرگ اور کامیاب نبی 640 اسوہ انسان کامل exception of Ayesha, he married women, who were neither virgins, nor young nor beautiful۔Was this sensuality?"(15) ترجمہ: اگر ہم محمد کی پیشگوئیوں کا بغور مطالعہ کریں یا مسلمانوں کی بتدائی فتوحات پر غور کریں تو ہم پر با سہولت یہ واضح ہو جائے گا کہ اسلام کا تلوار سے مسلط کیے جانے اور تلوار ہی کے ذریعہ اس کا جلد اور وسیع پھیلائے جانے کا الزام کتنا بے حقیقت ہے۔قرآن کہتا ہے ملا اکراہ فی الدین کہ دین کے لئے کوئی جبر نہیں۔قرآن کا یہ کہنا ظلم وجبر کے الزام کا آسان جواب ہے۔محمد جو سلطنت کے سربراہ تھے اور اپنے لوگوں کی زندگی اور آزادی کے محافظ انصاف کے معاملے میں مجرموں کو سخت سے سخت سزائیں دیتے تھے۔۔۔محمد ایک الہی مذہب کے داعی ہونے کے لحاظ سے انتہائی نرم اور رحم دل تھے حتی کہ اپنے ذاتی دشمنوں کیسا تھ بھی۔آپ دو بہترین خوبیوں جنہیں انسان تصور میں لاسکتا ہے یعنی انصاف اور رحم کا ایک حسین امتزاج تھے۔اسلام کے دشمنوں نے آپ کی شادیوں سے آپ میں ایک کمزور کر دار اور اپنے مشن سے غیر مخلص ثابت کرنے کی کوشش کر کے آپ کو ایک عیاش طبع اور آوارہ آدمی کی صورت میں پیش کرنے کیلئے پورا زور لگایا۔انہوں نے اس حقیقت کو مد نظر نہ رکھا کہ آپ نے زندگی کے اس دور میں جبکہ قدرتی طور پر جنسی خواہشات زور آور ہوتی ہیں صرف ایک ہی عورت سے شادی کی ، باوجود یہ کہ آپ عربوں کے اس معاشرے کے مکین تھے جہاں نظام از دواجیت نہ ہونے کے برابر تھا۔جہاں تعدد ازدواج ایک رواج تھا اور جہاں علیحدگی نہایت آسان تھی۔خدیجہ جوخود آپ سے کافی عمر رسیدہ تھیں اور آپ 25 سال تک ان کے وفاشعار اور محبوب رفیق حیات رہے۔صرف اس وقت جب خدیجہ کی وفات ہوگئی اور آپ 50 سال کے ہو گئے آپ نے دوبارہ کئی شادیاں کیں۔ہر شادی کسی معاشرتی یا سیاسی مقصد کیلئے تھی۔آپ اپنی ازواج کے ذریعہ سے پر ہیز گار عورتوں کو عزت دینا چاہتے تھے یا دوسرے قبائل سے شادیوں کے ذریعے سے تعلقات استوار کرنا چاہتے تھے تا کہ اسلام کی تبلیغ میں زیادہ سے زیادہ راہ ہموار ہو۔سوائے حضرت عائشہؓ کے آپ نے ایسی عورتوں سے نکاح کیا جو نہ تو کنواری تھیں نہ جوان اور نہ ہی غیر معمولی خوبصورت۔کیا یہی عیاشی ہوتی ہے؟ 12 مسٹر سرولیم میور (1923ء) اسلامی امور کے ماہر اور لائف آف محمد کے مصنف لکھتے ہیں:۔"The condition of the world at the time of the advent of Muhammad has been summed up in the Holy Quran as: 'Corruption has appeared on land and sea in consequence of people's misdeeds' (30:42)۔This is amply borne out by the testimony that we have cited above۔Thus, it is clear that the state of the world, at the time of the advent of the Holy Prophet, called loudly for universal and comprehensive divine guidance, to be set forth in God's words,