اسوہء انسانِ کامل — Page 50
اسوہ انسان کامل 50 شمائل نبوی علی گپ شپ پسند نہ فرماتے تھے۔البتہ بعض اہم دینی کاموں کیلئے آپ نے حضرت ابو بکر اور عمر سے عشاء کے بعد بھی مشورے فرمائے۔(احمد 20 ) دن کے کاموں کا اختتام نماز عشاء سے پہلے پہلے کر کے عشاء کے بعد آرام کرنا پسند کرتے تا کہ تہجد کیلئے بر وقت بیدار ہوسکیں۔( بخاری ) 21 پھر آدھی رات کے قریب جب آنکھ کھلتی اپنے مولیٰ سے راز و نیاز میں محو ہو جاتے۔آپ نے رات کے ہر حصہ میں نماز تہجد ادا کی ہے۔مگر اکثر رات کی آخری تہائی میں عبادت کرتے تھے۔( بخاری ) 22 خوراک و غذا نبی کریم کھانے سے پہلے اور بعد میں بھی ہاتھ دھونے کی ہدایت فرماتے تھے۔( بیٹمی 23) نیز اللہ کا نام لے کر اپنے سامنے سے اور دائیں ہاتھ سے کھانے کی تلقین فرماتے۔( بخاری (24) آپ کی خوراک و غذا نہایت سادہ تھی۔بسا اوقات رات کے کھانے کی بجائے دودھ پر ہی گزارا ہوتا تھا۔( بخاری (25) مشروب پیتے ہوئے تین مرتبہ سانس لیتے اور اللہ کے نام سے شروع کرتے اور اس کی حمد پر ختم کرتے۔( بیٹمی ) 26 جو ملی گندم کے ان چھنے آٹے کی روٹی استعمال کرتے تھے کیونکہ اس زمانہ میں چھلنیاں نہیں ہوتی تھیں۔یوں تو حضور کو دستی کا گوشت پسند تھا مگر جو میسر آتا کھا کر حمد وشکر بجالاتے۔سبزیوں میں کڈ وپسند تھا۔سر کہ کے ساتھ بھی روٹی کھائی اور فرمایا یہ بھی کتنا اچھا سالن ہوتا ہے۔( بخاری ) 27 عربی کھانا ثرید ( جس میں گندم کے ساتھ گوشت ملا ہوتا ہے ) مرغوب تھا۔اسی نوع کا ایک اور کھانا ہر میسہ بھی استعمال فرمایا۔سنگترہ کھجور کے ساتھ ملا کر کھانے کا لطف بھی اٹھایا۔اللہ کی ہر نعمت کے بعد اس کا شکر ادا کرتے۔( بخاری ) 28 پھلوں میں تربوز بہت پسند تھا دائیں ہاتھ سے کھجور اور بائیں سے تربوز لے کر کھاتے اور فرماتے ہم کھجور کی گرمی کا علاج تربوز کی ٹھنڈک سے کرتے ہیں۔(حاکم (29) میٹھے میں شہد کے علاوہ حلوہ اور کھیر پسند تھی۔(احمد) 30 آپ ٹیک لگا کر کھانا نہیں کھاتے تھے۔سخت گرم کھانا کھانے سے پر ہیز کرتے تھے۔(حاکم) 31 طہارت وصفائی ارشادربانی ہے کہ اللہ تعالیٰ تو بہ کرنے والوں اور پاکیزگی رکھنے والوں کو پسند کرتا ہے۔(سورۃ البقرہ: 23) یہی وجہ ہے کہ رسول کریم نے باطنی طہارت کیلئے ظاہری طہارت کو ضروری قرار دیا اور اس کے تفصیلی آداب سکھائے۔دن میں پانچ مرتبہ ہر نماز سے پہلے وضو کا حکم دیا۔جسم کی صفائی کیلئے ہفتہ میں کم از کم دو مرتبہ نہانے کی ہدایت فرماتے۔کم از کم ایک