اسوہء انسانِ کامل — Page 609
اسوہ انسان کامل 609 آنحضرت ﷺ کی خدادادفر است و بصیرت سکھانے اور نمازوں وغیرہ کے لئے تعمیر مساجد کا انتظام کروایا گیا۔پھر آپ نے مدینہ اور اس کے ماحول پر توجہ فرمائی اور مدینہ کے یہود اور دیگر غیر مسلموں اور اردگرد کے قبائل سے معاہدات کر کے مسلمانوں کے لئے ایک محفوظ راہ اختیار فرمائی۔میثاق مدینہ رسول اللہ کے نہایت فراست مندانہ اقدامات میں سے ایک تھا۔میثاق مدینہ اس تحریری معاہدہ کے نتیجہ میں مدینہ اور اس کے ماحول میں موجود غیر مذاہب اور اقوام کے ساتھ منصفانہ برتا ؤ اور حسن سلوک کے علاوہ آزادی مذہب اور قیام امن کے زریں اسلامی اصول کے عملی نمونے واضح ہو کر سامنے آئے۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے ہجرت مدینہ کے ابتدائی سالوں میں جب مسلمان اقلیت میں تھے جب کہ وہاں کے باشندوں کی اکثریت یہودیوں اور مشرکین وغیرہ پرمشتمل تھی۔منافقین ان کے علاوہ تھے۔ان حالات میں وہاں ایک اسلامی ریاست کی بنیا درکھنا بظاہر ناممکن تھا۔یہ ہمارے آقا و مولا حضرت محمد ﷺ کی فراست و بصیرت کا کمال تھا کہ ہجرت کے صرف تین ماہ کے اندر آپ نے میثاق مدینہ کے پہلے تحریری دستور کا یہ کام کر دکھایا۔جس کا مقصد حصول اقتدار نہیں بلکہ قیام امن تھا۔مدینہ کی مسلمان اقلیت کو نہ صرف مکہ سے خطرہ تھا بلکہ مدینہ اور اس کے اردگرد کے تمام غیر مسلموں، یہود اور مشرکین سے وہ معرض خطر میں تھے۔اس کا حل آنحضرت ﷺ نے کمال دانشمندی اور حسن تدبر سے میثاق مدینہ کے ذریعہ نکالا۔اس سے بھی پہلے آپ نے نہایت دور اندیشی سے اوس و خزرج کے بر سر پیکار قبائل میں سے نومسلم خاندانوں کے بارہ نقیب مقرر فرما کر انہیں مہاجرین کے ساتھ اخوت کے رشتہ میں باندھ کر منظم کر دیا تھا۔دور حاضر کے مشہور محقق ڈاکٹر محمدحمید اللہ صاحب نے میثاق مدینہ پر اپنی کتاب ”دنیا کا پہلا تحریری دستور میں اس معاہدہ پر مفصل بحث کی ہے۔اس کی سب سے نمایاں خوبی وہ حقوق ہیں جن کا پہلی بار اس میں اعلان کیا گیا۔اس معاہدہ نے نہ صرف مدینہ کے متحارب قبائل کے مابین جاری اس جنگ کو ختم کر دیا، جس نے ان کی معاشرت کو تباہ کر کے رکھ دیا تھا بلکہ اس میں غیر مذاہب خصوصاً یہود اور مشرکین کے ساتھ تمام دیگر قبائل کے مقابل پر امت واحدہ کے طور پر ایک دوسرے کی مدد کا معاہدہ ہوا۔اس معاہدہ میں مدینہ منورہ کے نواح میں آباد متعد د قبائل میں سے نسبتاً زیادہ معروف قبیلے بنونضیر، بنو قینقاع اور بنوقریظہ ہی اس معاہدہ میں فریق نہ تھے بلکہ ان کے تمام ذیلی قبائل بھی شامل تھے جن کے نام معاہدہ کے تاریخی متن میں آج بھی محفوظ ہیں۔میثاق مدینہ کی اہم شقیں یہ تھیں۔1 - المسلمون من قريش و يثرب ومن تبعهم فلحق بهم وجاهد معهم امة واحدة من دون الناس ، قریشی مسلمان ، یثرب کے مسلمان ، ان کی اتباع کرنے والے، ان کے ساتھ الحاق کرنے والے، ان کے