اسوہء انسانِ کامل — Page 589
اسوہ انسان کامل 589 رسول کریم کی حیاداری رسول کریم کی حیاداری حیاء کے معنی ملامت کے ڈر سے برائیوں سے بچنے کے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی ذات چونکہ ہر قسم کے عیب سے منزہ ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ کیلئے صفت حیاء کا مطلب یہ ہوگا کہ قبائح سے پاک اور محاسن کا فاعل۔حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی بڑا حیادار اور کریم ہے جب بندہ اس کے سامنے ہاتھ اُٹھا کر دعا کرتا ہے تو اسے خالی واپس لوٹاتے وہ شرم محسوس کرتا ہے جب تک وہ اسے کوئی خیر یا بھلائی عطا نہ کر دے۔(ترمذی) 1 حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے اس طرح حیاء کرو جو حیاء کا حق ہے ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ہم حیاء کرتے ہیں اور تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں۔آپ نے فرمایا محض اللہ کی حمد کرنا حیاء نہیں ہے۔اصل حیاء یہ ہے کہ اپنے سر اور اس کے جملہ اعضا یعنی آنکھوں اور کانوں کی حفاظت کرو اور پیٹ اور اس پر مشتمل اعضاء کی مکمل حفاظت کرو اور موت کو ہمیشہ یادرکھو اور جو آخرت چاہتا ہے وہ دنیا کی زینت چھوڑ دیتا ہے جو شخص ایسا کرے اس نے اللہ سے حیاء کا حق ادا کیا۔(ترمذی)2 ایک دفعہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے کوئی خاص نصیحت فرمائیں۔آپ نے فرمایا اللہ سے کم از کم اس طرح حیاء کرو جس طرح اپنی قوم کے کسی نیک آدمی سے حیاء کرتے ہو۔( بیشمی ) 3 رسول کریم نے یہ بھی فرمایا کہ ہر دین کے کوئی اخلاق ہوتے ہیں۔اسلام کا خلق حیاء ہے۔(ابن ماجہ )4 حضرت حکم اپنے باپ سے اور وہ دادا سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول کریم سے سوال کیا کہ جسم کے کتنے حصہ کا پردہ ضروری ہے۔آپ نے فرمایا اپنی شرمگاہ کی حفاظت اور پردہ کرو۔سوائے اس کے جائز محل یعنی بیوی کے۔میرے دادا نے پوچھا کہ کیا ایک شخص اپنے ساتھی مرد سے بھی یہ پردہ کرے؟ فرمایا ہاں اگر مکن ہوتو یہی مناسب ہے کہ شرمگاہ کو کوئی دوسرا نہ دیکھے۔انہوں نے پھر پوچھا کہ جب آدمی اکیلا ہو تو پھر بھی یہ پردہ ضروری ہے فرمایا ہاں اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے حیاء کی جائے۔( نر مندی) 5 رسول کریم فرماتے تھے کہ بے حیائی جس چیز میں ہوا سے بد زیب بنا دیتی ہے اور حیاء جس چیز میں ہوا سے حسین اور خوبصورت کر دیتا ہے۔(ترمذی) 6 رسول اللہ اللہ کا خلق حیاء حیاء کی غیر معمولی صفت بچپن سے ہی رسول اللہ کو غیر معمولی طور پر ودیعت تھی اور اس لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ آپ کی خاص حفاظت فرما تا رہا۔رسول کریم اپنے بچپن کا یہ واقعہ خود بیان فرماتے تھے کہ ایک دفعہ ہم بچے کھیلتے ہوئے پتھر