اسوہء انسانِ کامل — Page 587
اسوہ انسان کامل 587 ہمارے مطہر رسول کی طہارت و پاکیزگی کھانے پینے وغیرہ میں صفائی رسول کریم ﷺ کھانے پینے میں بھی صفائی کا خیال رکھنے کی ہدایت فرماتے۔ارشاد فرماتے کہ ہاتھ صاف کر کے دائیں ہاتھ سے کھانا کھایا جائے۔( بخاری ) 20 برتن میں کتا منہ ڈال جائے تو سات مرتبہ دھونے کی ہدایت فرماتے۔( مسلم ) 21 طبیعت میں نفاست بہت تھی۔گندے رہنے والے جانور کا گوشت پسند نہ تھا۔گوہ کا گوشت شاید اسی لئے ناگوار ہوا بلکہ گوہ کے چمڑے میں رکھا ہوا گھی بھی اس کی مخصوص یو کی وجہ سے پسند نہ فرمایا۔(ابن ماجہ ) 22 حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ایک دفعہ مسجد کے سامنے کی دیوار پر تھوک پڑا دیکھا۔آپ نے خود اپنے ہاتھوں سے گھر چ کر صاف کر دیا۔پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ نماز میں انسان قبلہ رخ ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کر کے کھڑا ہوتا ہے۔ایسے میں سامنے کی طرف ہرگز تھوک نہیں پھینکنا چاہیے۔(احمد) 23 سر اور داڑھی کے بالوں کی تزئین رسول کریم نے لباس کی صفائی کے ساتھ سر اور داڑھی کے بالوں کی تزئین و درستی کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔آپ خود با قاعدگی سے اپنے سر کے بال کٹواتے تھے اور داڑھی بھی دائیں اور بائیں سے تر شوایا کرتے تھے۔(ترمذی) 24 ایک دفعہ رسول کریم ﷺ مسجد نبوی میں تھے کہ ایک شخص اندر آیا اس کے سر اور داڑھی کے بال پراگندہ تھے۔آنحضرت ﷺ نے اسے اشارہ سے فرمایا کہ واپس جاؤ اور سر اور داڑھی کے بال درست کر کے آؤ۔وہ شخص تعمیل ارشاد کے بعد واپس آیا۔رسول کریم میں نے اسے دیکھ کر فرمایا کیا یہ اب زیادہ اچھا نہیں لگ رہا اور کیا یہ اس سے زیادہ بہتر نہیں کہ تم میں سے ایک شخص پراگندہ بالوں کے ساتھ اس حال میں آئے گویا کہ وہ شیطان ہے (مالک) 25 حضرت جابر بیان کرتے ہیں رسول کریم ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ایک شخص کو دیکھا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔آپ نے فرمایا کیا اس شخص کواتنی بھی توفیق نہیں تھی کہ اپنے بال ہی درست کر لیتا۔پھر آپ نے ایک اور شخص دیکھا جس نے میلے کچیلے غلیظ کپڑے پہن رکھے تھے۔آپ نے فرمایا کیا اس شخص کو کہیں پانی بھی نہیں ملا جس سے یہ کپڑے صاف کر لیتا۔(ابوداؤد ) 26 ابو ر صافہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی والدہ اور خالہ کے ساتھ رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت کی۔واپسی پر میری والدہ اور امی کہنے لگیں کہ ایسا نفیس انسان ہم نے آج تک نہیں دیکھا جس کا چہرہ اتنا حسین ،لباس اتنا صاف اور اتنی نرم گفتگو کرنے والا ہو۔اس کے منہ سے تو جیسے نور پھوٹتا ہے۔( بیٹمی )27 ی تھی ہمارے پاک اور مطہر رسول کی نظافت و نفاست کی اعلیٰ شان !