اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 575 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 575

575 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سادگی اور قناعت اسوہ انسان کامل نبی کریم اپنے نوجوان صحابہ سے بھی بے تکلفی کے ماحول میں بات کر لیا کرتے تھے۔حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ میں رسول کریم کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔چند روز قبل میری شادی ہوئی تھی۔مجھے فرمانے لگے اے جابر ! سناؤ پھر شادی کرلی ؟ میں نے کہا ”جی کر لی ہے۔فرمانے لگے کنواری سے کی ہے یا بیوہ سے؟ عرض کیا حضور بیوہ سے فرمایا ارے! کنواری لڑکی سے کیوں شادی نہ کی کہ ہم عمر سے بے تکلفی کا لطف بھی اٹھاتے ؟‘ جاہڑ نے عرض کیا ”حضور آپ کو تو معلوم ہے میرے والد اُحد میں شہید ہو گئے اور پیچھے نو بیٹیاں چھوڑ گئے۔اب مجھے نو بہنوں کو سنبھالنا تھا میں نے نا پسند کیا کہ ان جیسی ایک اور بے سمجھ لڑکی لے آؤں اس لئے میں نے ایک ایسی بیوہ عورت سے شادی کی جوان کی نہ پٹی کر دے اور ان کا خیال رکھے۔“ ( بخاری )34 تکلف سے کام لینا آپ کو پسند نہ تھا۔اسماء بنت یزید بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔حضور کی طرف سے ہمیں بھی کھانے کے لئے کہا گیا تو ہم نے تکلفاً کہا کہ ہمیں تو بھوک نہیں ہے۔آپ نے فرمایا دو باتیں جمع نہ کر لو ایک بھوک دوسرے جھوٹ۔“ ( ابن ماجہ ) 35 حضرت اسماء نے پوچھا "یا رسول اللہ ! کیا اس طرح سے تکلف کی بات بھی جھوٹ شمار ہوتی ہے؟ فرمایا ”ہاں اگر کوئی چھوٹی سی بات غلط کہی جائے تو وہ چھوٹا جھوٹ ہوتا ہے اور کوئی بڑی بات خلاف واقعہ ہو تو وہ بڑا جھوٹ شمار ہوگا۔‘ ( احمد ) 36 الغرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر کام میں بے تکلفی پسند تھی اور ما انا مِنَ الْمُتَكَلِّفِین کا سچا نعرہ آپ کا ہی تھا۔مہمان نوازی آپ کا پسندیدہ مشغلہ تھا مگر اس میں بھی تکلف روانہ رکھتے۔جو حاضر ہوتا پیش فرما دیتے۔جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضور کو کچھ شہد بطور تحفہ پیش کیا گیا۔حضور نے صحابہ کوفر مایا کہ ایک ایک لقمہ شہد لے کر کھالیں۔حضرت جابڑ کہتے ہیں میں نے اپنے حصہ کا ایک لقمہ کھالیا۔پھر حضور سے عرض کیا کہ حضور میں ایک اور لقمہ بھی لے لوں۔آپ نے فرمایا۔ہاں۔“ ( ابن ماجہ ) 37 ایک دفعہ رسول کریم کے پاس ایک مہمان آیا۔آپ نے اس کے کھانے کے لئے گھر میں دیکھا تو سوائے روٹی کے ایک ٹکڑے کے کچھ نہ پایا۔آپ نے اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر دیئے اور وہ لے کر آ گئے اور فرمایا اللہ کا نام لے کر کھالو‘ اس نے کھایا اور کچھ بیچ رہا۔وہ شخص نبی کریم ﷺ سے کہنے لگا آپ بہت نیک انسان ہیں۔(الوفاء )38 معلوم ہوتا ہے وہ شخص فاقہ سے تھا کہ سیر ہو کر صدق دل سے شکر یہ ادا کیا۔اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سادگی اور بے تکلفی کی بیداد اتنی پسند آئی کہ بے اختیار آپ کی تعریف کرنے لگا۔غیروں کا اعتراف الغرض غیروں نے بھی آپ کی سادگی پر رشک کرتے ہوئے صدق دل سے اس کا اعتراف کیا ہے۔سابق عیسائی راہبہ پروفیسر کیرن آرمسٹرانگ نے نبی کریم کی سادگی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:۔