اسوہء انسانِ کامل — Page 570
اسوہ انسان کامل 570 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سادگی اور قناعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سادگی اور قناعت ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ قرآن شریف کی پاکیزہ تعلیم کے عین مطابق تھے۔اللہ تعالیٰ نے خود اپنے نبی کی زبان سے یہ کہلوایا کہ اے نبی ! تو کہہ دے کہ میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔(ص: 87 ) یہ خود خدائے عالم الغیب کی گواہی ہے جو نبی کریم کے تکلف اور تصنع سے پاک بیچے اخلاق کی تصدیق کر رہی ہے۔اس سے بڑھ کر کوئی گوا ہی نہیں ہو سکتی۔نبی کریم کی اپنی گواہی بھی یہی ہے۔فرماتے تھے ”میں تو ایک سادہ سا انسان ہوں۔عام لوگوں کی طرح کھاتا پیتا اور اٹھتا بیٹھتا ہوں۔“ آپ کی زوجہ محترمہ ام المؤمنین حضرت عائشہ نے بھی یہی گواہی دی۔جب پوچھا گیا کہ آنحضور گھر میں کیسے رہتے تھے ؟ فرمانے لگیں عام انسانوں کی طرح رہتے تھے اور گھریلو کاموں میں اہل خانہ کی مدد فرماتے تھے۔اپنے کام خود کر لیتے تھے۔( بخاری ) از کوۃ کے اونٹوں پر نشان لگانے کے لئے خود انہیں داغ لیتے تھے۔( بخاری )2 قناعت پسندی نبی کریم کی سادگی کا اصل راز آپ کی قناعت میں مضمر تھا۔جس کی قرآن شریف میں آپ کو تعلیم دی گئی کہ اپنی آنکھیں اس عارضی متاع کی طرف نہ پیار جو ہم نے ان میں سے بعض گروہوں کو دنیوی زندگی کی زینت کے طور پر عطا کی ہے تا کہ ہم اس میں ان کی آزمائش کریں۔اور تیرے رب کا رزق بہت اچھا اور بہت زیادہ باقی رہنے والا ہے۔“ (سورۃ طہ (132) آپ کا مسلک تھا کہ قناعت ایسا خزانہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔( سیوطی )3 اسی طرح اپنے صحابہ کو بھی یہ تلقین فرماتے تھے کبھی اپنے سے اوپر نظر نہ رھو بلکہ اپنے سے کم تر کو دیکھو یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ اللہ کی نعمت کو حقیر نہ جانو اور شکر ادا کر سکو۔(احمد) 4 آپ فرماتے تھے کہ جس شخص نے دلی اطمینان اور جسمانی صحت کے ساتھ صبح کی اور اس کے پاس ایک دن کی خوراک ہے۔اس نے گویا ساری دنیا جیت لی اور ساری نعمتیں اسے مل گئیں۔(ترمذی)5 آپ کا اپنا کھانا پینا، لباس بستر وغیرہ سب سادہ تھے۔زمین پر بچھونا ڈال کر سو جاتے تھے۔بستر یا گدا چمڑے کا تھا جس کے اندر کھجور کے پتے اور ان کے ریشے بھرے ہوئے تھے۔( بخاری )6 ایک دفعہ حضرت عائشہ نے بستر کے بچھونے کی دوتہوں کی بجائے چار نہیں لگادیں آپ نے پوچھا کہ آج رات کیا بچھایا تھا؟ جب بتایا گیا زیادہ آرام کے لئے کپڑے کی چار نہیں لگا کر بچھایا تھا۔فرمایا پہلے جیسا ہی بچھایا کرو وہی ٹھیک