اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 566 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 566

566 رسول اللہ کی حیرت انگیز تواضع اسوہ انسان کامل حالات سے گزرے ہونگے کہ اللہ کی مضبوط پناہ کو تلاش کرتے تھے۔جیسا کہ قرآن میں ذکر ہے او آوِی اِلی رُکن شَدِید یعنی میں کسی مضبوط پناہ کی تلاش کروں۔( بخاری )61 کبھی حضرت یوسف علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں اگر ہم یوسف کی جگہ قید میں رہے ہوتے تو شاہی قاصد کا قید سے آزادی کا پیغام سن کر فوراً اس کے ساتھ چل پڑتے۔مگر یوسف علیہ السلام نے الزام تراش عورتوں سے اپنی برا آت آنے تک انتظار کیا۔( بخاری )62 اس زمانہ میں نینوا کی بستی میں حضرت یونس کے ماننے والے موجود تھے۔سفر طائف میں رسول اللہ کو نینوا کا ایک باشندہ ملا، جو آپ سے حضرت یونس علیہ السلام کا نام سن کر متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا تھا۔قرآن شریف میں حضرت یونس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَوْلَا أَنْ تَدرَكَهُ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهِ لَنُبِدَ بِالْعَرَاءِ وَهُوَ مَذْمُومٌ ( سورة القلم : 50) یعنی اگر اس ( یونس) کے رب کی ایک خاص نعمت اسے بچانہ لیتی تو وہ چٹیل میدان میں اس طرح پھینک دیا جاتا کہ وہ سخت ملامت زدہ ہوتا۔معلوم ہوتا ہے اس بیان سے کسی غلط فہمی کا ازالہ کرنے کے لئے نبی کریم نے حضرت یونس کی عزت اور مقام کا بھی لحاظ کیا اور از راہ تواضع فرمایا مجھے یونس بن متی پر بھی فضیلت نہ دو۔( بخاری )63 یہی ہدایت آپ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں دی اور ایک ایسے موقع پر دی جب ایک یہودی کا مسلمان سے تنازعہ ہو گیا۔جس میں یہودی کی بظاہر سراسر زیادتی تھی کہ سر بازار سودا فروخت کرتے ہوئے ایک مسلمان کو چڑاتے ہوئے کہا کہ اس خدا کی قسم جس نے موسیٰ کو دیگر انبیاء پر فضیلت دی، مسلمان نے کہا کہ کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ؟ اس نے کہا ہاں ، مسلمان نے اُسے تھپڑ رسید کر دیا، یہودی مقدمہ لے کر رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی کریم ہے نے فتنہ وفساد فرو کرنے کے لئے ایثار کرتے ہوئے ، کمال انکساری سے فرمایا اور لا تُفَصِلُونِي عَلَى مُوسَى - مجھے موسی" پر فضیلت نہ دو۔( بخاری )64 الغرض ہمارے آقا ومولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم امن و آشتی کے وہ پیامبر ہیں جنہوں نے فتنہ دور کرنے اور قیام امن کی خاطر اپنی ذات کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہ کیا۔آپ نے تواضع سے اپنا وجود ایسا مٹا کر دکھا دیا کہ آپ کا رفع ساتویں آسمان سے بھی آگے سدرۃ المنتھی تک ہوا۔بلا شبہ آج کی مادیت پرست دنیا میں قیام امن کا ایک راز یہی انکسار ہے اور کبر ونخوت کے عفریت سے رہائی کا ایک بڑا ذریعہ بھی یہی بھاری خلق ہے۔جس میں اسوہ رسول کو مشعل راہ بنا کر انسان بلند د نیوی و روحانی ترقیات حاصل کر سکتا ہے۔جو خاک میں ملے اسے ملتا ہے آشنا اے آزمانے والے یہ نسخہ بھی آزما