اسوہء انسانِ کامل — Page 559
اسوہ انسان کامل 559 رسول اللہ کی حیرت انگیز تواضع نبی کریم کو صحابہ کے ساتھ مل جل کر کام کرنا پسند تھا۔مسجد نبوی کی تعمیر میں خود پتھر ڈھوتے رہے۔غزوہ خندق میں خود کھدائی کرنے اور مٹی اٹھانے میں شامل ہوئے۔(بخاری) 27 ایک دفعہ صحابہ آنحضور ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے، ایک جگہ پر پڑاؤ ہوا۔آنحضور نے فرمایا سب صحابہ میں کام تقسیم کئے جائیں تعمیل ارشاد ہوئی۔خیمہ لگانے ،کھانا پکانے ، پانی لانے وغیرہ کے سب کام تقسیم ہو چکے۔آپ نے فرمایا میرے ذمہ کیا کام ہے؟ صحابہ نے عرض کیا حضور مہم آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہیں۔آپ تشریف رکھیں۔آپ نے فرمایا نہیں میں بھی کام کروں گا۔پھر خود ہی فرمایا آگ جلانے کے لئے لکڑیاں جمع کرنے کا کام ابھی تک کسی کے سپرد نہیں ہوا۔میں یہ کام اپنے ذمہ لیتا ہوں (میں لکڑیاں جمع کرونگا) اور پھر آپ اس مقصد کے لئے جنگل میں چلے گئے۔(زرقانی)28 سادگی نبی کریم کا کھانا پینا اور خوراک ولباس اتنے سادہ تھے کہ اسراف کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔نبی کریم نے عام دنیوی سرداروں کی طرح اپنی سواری کے جانور کو بھی کبھی فخر و مباہات کا ذریعہ نہیں بنایا۔آپ کی اونٹنی عضباء بہت تیز رفتار تھی۔سب اونٹنیوں سے آگے نکل جاتی تھی۔ایک دفعہ پیچھے رہ گئی تو صحابہ کو اس کا بہت افسوس ہوا۔آپ ان کو تسلی دیتے اور فرماتے تھے کہ دنیا کی کوئی بھی چیز جب بلند ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے نیچا دکھاتا ہے۔( بخاری ) 29 رسول کریم لباس کے استعمال میں بھی احتیاط فرماتے کہ عجب و فخر کا ذریعہ نہ ہو۔صحابہ کو بھی نصیحت فرماتے کہ کپڑے لٹکا کر چلنا کبر کی نشانی ہے، اس سے بچنا چاہیے۔جمعہ عید اور مہمانوں یا وفود کی آمد پر شایان شان لباس بھی پہنتے تھے مگر کبھی بڑائی کا اظہار مقصود نہ ہوا۔آپ صرف ضرورت کے وقت لباس خریدتے تھے۔غرباء کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے تھے۔بسا اوقات ایسا ہوا کہ اپنی ضرورت کے کپڑے بھی مستحقین کو دے دیئے۔ایک دفعہ ایک کم سن لونڈی کو بازار میں روتے دیکھا جو گھر کے مالکوں کا آنا خرید نے انکی تھی مگر درہم گم کر بیٹھی۔آپ نے اُسے درہم بھی مہیا کئے اور اُس کے مالکوں کے گھر جا کر سفارش بھی کی۔جنہوں نے حضور کی آمد پر خوش ہو کر اسے آزاد کر دیا۔(بیشمی ) 30 غزوہ بدر میں سواریاں کم تھیں۔ایک سواری میں کئی اصحاب شریک تھے۔رسول اللہ کے حصہ میں جو اونٹ آیا اس میں دوساتھی اور شامل تھے۔انہوں نے عرض کیا کہ حضور اونٹ پر سوار ہو جائیں ہم پیدل چلیں گے۔آپ فرماتے نہیں ہم باری باری سوار ہو نگے نہ تم مجھ سے زیادہ طاقتور ہو کہ تم پیدل چلو اور میں سوار ہوں اور نہ تمہیں ثواب اور اجر کی مجھ سے زیادہ ضرورت ہے کہ تم چل کر ثواب حاصل کرو اور میں اس سے محروم رہوں۔( احمد ) 31 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنے اصحاب کی عیادت کیلئے خود تشریف لے جاتے تھے۔اپنے یہودی غلام کی