اسوہء انسانِ کامل — Page 545
اسوہ انسان کامل 545 نبی کریم کی شان تو کل علی اللہ ہے۔الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوالَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَ هُمُ إِيمَانًا وَّقَالُو حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ - ( آل عمران : 174 ) یعنی وہ لوگ جن کو کہا کہ دشمن تمہارے خلاف جمع ہو گئے ہیں۔پس ان سے ڈر جاؤ۔تو اس بات نے ان کو ایمان میں اور بڑھا دیا۔اور انہوں نے کہا حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيل “ اللہ ہمارے لئے کافی ہے۔اور وہ بہترین کارساز ہے۔دراصل اس آیت میں غزوہ حمراء الاسد کی طرف اشارہ ہے۔اُحد سے واپسی پر سردار قریش ابوسفیان نے دوبارہ پلٹ کر مدینہ پر حملہ کرنے اور مسلمانوں کو لوٹنے کا قصد کیا۔رسول اللہ اور آپ کے اصحاب کو اس کی خبر ہوئی تو بجائے کسی خوف کے آپ نے ابوسفیان کے لشکر کا تعاقب کرنے کا ارادہ فرمایا اور صحابہ نے والہانہ لبیک کہتے ہوئے آپ کا ساتھ دیا اور بیک زبان ہو کر کہا کہ اللہ ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔( بخاری ) 27 اُدھر ابوسفیان نے جب پلٹ کر مدینہ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا۔تو مدینہ کی طرف جانے والے عبدالقیس کے ایک قافلے کے ذریعہ یہ پیغام بھجوایا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو کہہ دینا کہ ہم اُن کی جڑا کھیر نے اور قلع قمع کرنے کے لئے پھر آرہے ہیں۔وہ قافلہ رسول اللہ کو حمراء الاسد مقام پر ملا اور ابوسفیان کا پیغام دیا۔جس پر رسول کریم نے کسمپرسی کے اس عالم میں ایک شکست خوردہ زخمی لشکر کی ہمراہی میں کس شان سے اس موقع پر جواب دیا۔حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ کہ اللہ ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہت بہترین کارساز ہے۔ادھر بنوخزاعہ کا ایک مشترک سردار جو حمراء الاسد میں رسول اللہ کو دیکھ کر آیا تھا اس نے ابوسفیان کو مشورہ دیا کہ مسلمان شکست کا بدلہ لینے کے لئے لڑنے مرنے پر تیار ہیں۔سردار قریش صفوان بن امیہ نے بھی ابو سفیان کو واپس لوٹنے کا مشورہ دیا۔چنانچہ وہ واپس لوٹ گئے۔(ابن ہشام) 28 الغرض رسول کریم کا تو گل زندگی بھر اپنی شان میں مسلسل بڑھتا ہی چلا گیا۔آپ ایک جنگ سے واپسی پر آرام فرما رہے تھے، ایک دشمن تاک میں تھا۔وہ تلوار سونت کر کہنے لگا، اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ نبی کریم نے ظاہری اسباب کے معدوم ہونے کے باوجود کمال یقین اور عجب شان تو کل سے فرمایا میرا اللہ! اور تلوار دشمن کے ہاتھ سے گر گئی۔( بخاری )29 رسول کریم کا اپنے دور کی دو عظیم حکومتوں کو دعوت اسلام دینا بھی آپ کے عظیم تو کل کو ظاہر کرتا ہے۔عرب ریاستیں ایرانی اور رومن حکومت کی باجگزار اور تابع تھیں اور ان کو اپنی اطاعت کی دعوت دینا گویا اعلان جنگ کے مترادف تھا۔مگر رسول کریم نے خدا کے حکم کے مطابق انہیں بھی پیغام پہنچایا۔شہنشاہ کسری نے اس پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے آپ کو گرفتار کرنے کا پروانہ بھجوایا۔اہل معرفت نے خوب کہا ہے کہ ” مترس از بلائے کہ شب درمیان است اس مصیبت سے نہ ڈرو جس کے درمیان ابھی رات باقی ہو۔رسول اللہ نے بھی اس رات خدا پر بھروسہ کے ساتھ خوب دعائیں کیں۔ایسی مقبول دعا ئیں کہ اسی رات اللہ تعالیٰ نے جواباً قبولیت کی بھی اطلاع فرمائی اور آپ نے کمال