اسوہء انسانِ کامل — Page 540
540 اسوہ انسان کامل نبی کریم کی شان تو کل علی اللہ نبی کریم نے تو کل کے یہی معنی اپنی اُمت کو سمجھائے۔ایک دفعہ ایک بد و آیا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول میں اونٹ کا گھٹا باندھ کر تو کل کروں یا اونٹ کو چھوڑ دوں اور خدا پر توکل کروں۔رسول کریم نے فرمایا پہلے اونٹ کا گھٹنا باندھو اور پھر تو گل کرو۔(ترمندی )3 دراصل تو کل کا اعلی خلق رسول کریم کی وہ اعلیٰ شان ہے۔جس کے بارہ میں گزشتہ الہی نوشتوں میں بھی خبر دی گئی تھی کہ وہ رسول خدا پر توکل کرنے والا ہوگا۔چنانچہ عبد اللہ بن عمر بیان کرتے تھے کہ نبی کریم کے بارہ میں توریت میں یہ پیشگوئی تھی کہ تو میرا بندہ اور رسول ہے میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے ( بخاری )4 دراصل یہ اس پیشگوئی کی طرف اشارہ ہے جو یسعیاہ میں لکھا ہے دیکھو میرا خادم جسے میں سنبھالتا ہوں، میرا برگزیدہ جس سے میرا دل خوش ہے میں نے اپنی روح اس پر ڈالی (1/42) پھر لکھا ہے وہ ماندہ نہ ہوگا اور ہمت نہ ہارے گا جب تک عدالت کو زمین پر قائم نہ کرے۔“ (4/42) پھر لکھا ہے میں نے تجھے صداقت سے بلایا، میں ہی تیرا ہاتھ پکڑونگا اور تیری حفاظت کرونگا“ (6/42) چنانچہ رول کریم کا مکمل بھروسہ او کامل تو کل خدا کی ذات پر ہوتا تھا اور ہر خطہ ہر آن ای تو کل کا واسطہ دے کر اس سے دعا کرتے تھے، آپ کی نماز تہجد کا آغاز اس دعا سے ہوتا تھا کہ میں نے تجھ پر توکل کیا۔گھر سے نکلتے تو یہ دعا کرتے بِسْمِ اللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ۔اللہ کے نام کے ساتھ۔میں نے اللہ پر توکل کیا۔اللہ کے سوا کسی کو کوئی قوت اور طاقت حاصل نہیں۔نیز فرماتے تھے کہ یہ دعا کر کے جب انسان گھر سے نکلتا ہے تو اسے جواب میں کہا جاتا ہے تمہیں ہدایت دی گئی، تمہارے لئے یہ دعا کافی ہوگی اور تم بچائے جاؤ گے۔چنانچہ شیطان اس سے دور ہٹ جاتا ہے اور دوسرا شیطان اسے کہتا ہے اس شخص پر تمہارا کیا اختیار ہوسکتا ہے جسے ہدایت وکفایت مل گئی اور جو بچایا گیا۔(احمد) 5 رات کو سونے لگتے تو کام تو کل کی یہ دعا کرتے اور اپنے صحابہ کو بھی اس کی تعلیم فرماتے۔حضرت حذیفہ بن الیمان بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم سوتے یا بستر پر جاتے تو یہ دعا کرتے :۔اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَ أَحْيَا۔( بخاری ) 6 اے اللہ ! تیرے نام کے ساتھ میں مرتا ہوں۔اور تیرے نام سے ہی زندہ ہوتا ہوں۔جنگوں میں رسول اللہ کو کامل تو کل اور بھروسہ خدا کی ذات پر ہوتا تھا۔حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ جب کسی غزوہ کے لئے تشریف لے جاتے تو یہ دعا کرتے۔اللَّهُمَّ أَنتَ عَضُدِى وَ نَصِيرِى بِكَ اَحُولُ وَبِكَ أَصُولُ وَبِكَ أُقَاتِلُ - ( ترندي) 7 اے اللہ ! تو میرا سہارا اور مددگار ہے۔تیری مدد سے ہی میں تدبیر کرتا ہوں اور تیری تائید سے ہی میں حملہ آور ہوتا ہوں اور تیرے نام سے ہی لڑتا ہوں۔