اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 539 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 539

اسوہ انسان کامل 539 نبی کریم کی شان تو کل علی اللہ نبی کریم کی شان تو کل علی اللہ تو گل کے لفظی معنی سپرد کرنے کے ہیں۔اللہ پر توکل کرنے سے مراد اپنے آپ کو خدا کے بنائے ہوئے اسباب و قوانین کے سپرد کرنا ہے، اس اعتدال کے ساتھ کہ نہ تو محض ان اسباب پر کھلی بھروسہ کیا جائے ، نہ ہی ترک اسباب ہو۔بلکہ خدا نے جو طاقت اور صلاحیت عطا کی ہے، اسے بروئے کار لانے کے بعد انسانی کوشش میں جو کمی رہ جائے، اسے خدا کے سپرد کیا جائے کہ وہ خود اسے پورا کرے گا۔تو گل کے مضمون کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ایک تو علمی اور ذہنی تو گل ہے کہ ظاہری اسباب موجود نہ ہوں تو بھی خدا کی ذات پر بھروسہ ہو اور اسباب میئر آجائیں تو بھی کسی گھمنڈ کی بجائے یہ خیال رہے کہ اس میں بھی کوئی رخنہ باقی ہے، جسے خدا پورا کرے گا۔یہ ہے خدا کی ذات پر مکمل بھروسہ اور عملی تو کل یہ ہے کسی کام کے لئے سارے اسباب مہیا ہو جانے اور ساری تدبیروں اور کوششوں کے باوجود بھروسہ اسباب پر نہیں بلکہ خدا کی ذات پر ہو۔یہ اصل تو کل ہے جو کمزوری کے وقت نہیں طاقت کے وقت کیا جائے۔یہی تو کل ہے جس کا عرفان ہمیں نبی کریم کی پاکیزہ سیرت سے عطا ہوتا ہے۔بعض لوگوں کو اپنی غفلت اور کوتاہی کا نتیجہ جب مجبوراً قبول کرنا پڑتا ہے تو وہ اس پر راضی ہو جانے کوتو کل سمجھتے ہیں تو کل کا یہ مفہوم درست نہیں۔ایک دفعہ رسول کریم نے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ فرمایا جس شخص کے خلاف فیصلہ ہوا وہ جاتے ہوئے کہنے لگا حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْل میرا اللہ میرے لئے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔رسول کریم نے فرمایا اس شخص کو واپس میرے پاس لے کر آؤ۔پھر آپ نے اس سے پوچھا کہ تم نے کیا کہا تھا؟ اس نے یہی دعائیہ جملہ پھر دوہرایا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو ستی غفلت اور کم ہمتی ہرگز پسند نہیں بلکہ وہ اس پر ملامت فرماتا ہے۔اس لئے انسان کو ہوشمندی اور مستعدی سے پہلے مکمل تدبیر کرنی چاہئے۔پھر اگر کہیں مشکل پیش آجائے تو بے شک یہ هو حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَکیل “ کہ میرا اللہ میرے لئے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔( احمد )1 بغیر اسباب ،متد بیر اور کوشش کے کسی کام کو شروع کرنا بھی تو کل نہیں کہلا سکتا۔چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس نے بعض اہل یمن کے بارے میں بیان کیا کہ وہ حج پر آتے تھے اور زادِ راہ ساتھ نہیں رکھتے تھے۔مگر دعوی یہ کرتے تھے ہم متوکل لوگ ہیں۔پھر مکہ میں آکر لوگوں سے مانگتے پھرتے تھے۔اس سلسلہ میں یہ آیت قرآنی اتری۔وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْویٰ که زادراہ ساتھ رکھا کرو۔اور یا درکھو سب سے بہترین زاد راہ تقوی ہے۔( بخاری )2