اسوہء انسانِ کامل — Page 40
اسوہ انسان کامل 40 سوانح حضرت محمد علی ہزاروں کا مجمع آپ کی غلامی میں فخر محسوس کر رہا تھا۔مناسک حج ادا کرتے ہوئے آپ نے اونٹنی پر سوار ہو کر مشہور خطبہ بھی ارشاد فرمایا ”لوگو! شاید اس سال کے بعد میں تمہیں مل سکوں یا نہیں۔یاد رکھو جیسے یہ دن اور مہینہ حرمت والا ہے تمہارے جان و مال بھی ایک دوسرے پر حرام ہیں۔امانت اس کے اہل کے سپرد کی جائے۔میری یہ باتیں ان لوگوں تک پہنچا دینا جو یہاں موجود نہیں۔تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔سود کی رقم اور جاہلیت کے تمام خون آج معاف کئے جاتے ہیں۔عورتوں کا تم پر حق ہے اور تمہارا عورتوں پر حق ہے۔وہ تمہارے ہاتھوں میں خدا کی امانت ہیں۔ان سے نیک سلوک کرو اور غلاموں کا خیال رکھو۔جو خود کھاؤ ان کو کھلاؤ۔جو خود پہنو انہیں پہناؤ۔مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔کسی مسلمان کے لئے دوسرے کے مال میں تصرف جائز نہیں“۔(مسلم ) 104 وصال محرم 11ھ میں رسول کریم ﷺ کو بخار ہوا پھر بیماری میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔صفر کے مہینہ میں کچھ افاقہ ہوا تو شامی سرحدوں کی تشویش ناک خبریں سن کر نو عمر حضرت اسامہ بن زید کی سرکردگی میں جلیل القدر صحابہ کا ایک لشکر وہاں بھجوانے کا ارشاد فرمایا۔مگر جب حضور کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تو اسامہ کا لشکر حضور کی اجازت سے روک دیا گیا۔(ابن ہشام) 105 بیماری شدت اختیار کرنے پر حضور نے باقی ازواج کی اجازت سے حضرت عائشہ کے گھر میں قیام فرمایا۔سات آٹھ روز تک بیماری کی حالت میں آپ نماز کے لئے تشریف لاتے رہے۔ایک روز فر مایا اللہ نے اپنے ایک بندے کو اختیار دیا کہ چاہے وہ اس دنیا کو اختیار کرے اور چاہے آخرت کو مگر اس بندے نے آخرت کو اختیار کیا۔حضرت ابوبکر سمجھ گئے کہ اس سے مراد ہمارے آقا ہیں اور وہ بے اختیار رو پڑے۔( بخاری ) 6 106 اپنی بیماری کے دنوں میں نماز کی امامت کے لئے آپ نے حضرت ابوبکر" کو مقرر فرمایا۔حالانکہ آپ کو حضرت عائشہ کی طرف سے یہ رائے دی گئی کہ ابو بکر نرم دل ہیں آپ کی جگہ کھڑے ہو کر ضبط نہ کر سکیں گے۔اس لئے حضرت عمر کو نماز پڑھانے کا ارشاد فرمائیں۔مگر آپ نے باصرار فرمایا کہ ابوبکر کو کہو نماز پڑھائیں۔اور پھر جب آپ نے صحابہ کو حضرت ابو بکر کی اقتداء میں نماز پڑھتے دیکھا تو بہت خوش ہوئے۔آپ کے اس فعل میں حضرت ابوبکر کی خلافت کی طرف اشارہ تھا۔پیر کے دن رسول کریم ﷺ کی طبیعت زیادہ خراب ہوگئی۔آنکھیں پتھرا گئیں اور بدن بوجھل ہو گیا۔دو پہر کا وقت تھا۔اور 12 ربیع الاول کی تاریخ کہ ہمارے آقا نے اس دنیائے فانی کو چھوڑ کر اپنے مولائے حقیقی کی طرف سفر اختیار کیا (إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ) آخری وقت آپ کی زبان پر یہ الفاظ تھے۔اے اللہ ! میرے اعلیٰ رفیق!! (بخاری) 107