اسوہء انسانِ کامل — Page 39
اسوہ انسان کامل 39 سوانح حضرت محمد علی اور رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا۔ان میں ایک مشہور وفد نجران کے سرکردہ عیسائیوں کا تھا۔جس میں 60 افراد شامل تھے۔دوران گفتگو ان کی عبادت کا وقت آیا تو آپ نے ان کو مسجد نبوی میں ہی نماز کی اجازت دے دی۔پھر جب انہوں نے واضح دلائل کا انکار کیا تو رسول کریم ﷺ نے انہیں اللہ کے حکم کے مطابق مباہلہ کے لئے بلا یا مگر وہ ڈر گئے اور بعد معاہدہ صلح کر کے واپس ہوئے۔(ابن سعد ) 101 ایک اہم وفد بنو حنیفہ کا تھا جس میں مسلیمہ کذاب بھی شامل تھا اس نے مطالبہ کیا تھا کہ آپ مجھے اپنے بعد خلیفہ بنانا منظور کرلیں تو میں بیعت کرتا ہوں۔رسول کریم نے جواب دیا کہ میرے ہاتھ میں کھجور کی جو شاخ ہے اگر یہ بھی مانگوتو نہ دوں گا۔کیونکہ تمہاری نسبت میں جو دیکھ چکا ہوں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمہارا انجام اچھا نہیں۔رسول کریم نے خواب میں اپنے ہاتھ میں سونے کے دونگن دیکھے تھے۔جو آپ کو برے معلوم ہوئے۔بذریعہ وحی آپ کو بتایا گیا کہ ان پر پھونک مارو۔جس سے وہ دونوں اڑ گئے ، آپ نے فرمایا اس سے مراد دو کذاب ہیں جو میرے بعد زور پکڑیں گے۔ایک صنعاء کا اسود عنسی اور دوسرا یمامہ کا مسلیمہ کذاب“۔(ابن ہشام) 102 دسویں سال میں یمن کے قبائل نے اسلام قبول کیا اور پھر رفتہ رفتہ قریباً سارا عرب مسلمان ہو گیا۔حضرت ابو بکرا میرا لج رض 2 ھ میں رسول کریم ﷺ نے حضرت ابو بکر کو حج پر جانے والے اسلامی قافلوں کا امیر مقرر کر کے روانہ فرمایا۔بعد میں سورۃ البرأت کی آیات نازل ہونے پر حضرت علی کو بھجوایا کہ وہ حج پر یوم النحر کے دن اس کا اعلان کر دیں۔چنانچہ حضرت ابوبکر نے بطور امیر حج کے ارکان ادا کئے اور حضرت علی نے سورۃ البراۃ کی ابتدائی آیات کے مطابق یہ اعلان کیا کہ عہد شکن مشرکوں کے ساتھ اب کوئی معاہدہ نہیں رہا انہیں چار ماہ کی مہلت ہے۔اس عرصہ میں وہ اپنی بہتری کے لئے جو چاہیں کر لیں البتہ غیر مخالف مشرکوں کے معاہدہ کی مدت پوری کی جائے گی۔( بخاری ) 103 حجۃ الوداع 10ھ میں رسول کریم ﷺ قریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کے ساتھ خود حج کے لئے نکلے جو آخری حج ہونے کی وجہ سے حجتہ الوداع کہلاتا ہے۔یہ حج بھی آپ کی صداقت کا عجب شاہکار ہے۔ابھی چند سال پہلے وہ وقت تھا جب آپ حج پر آئے ایک ایک قبیلہ کو اسلام پیش کر کے سوال کرتے تھے کہ کوئی ہے جو مجھے قبول کرے اور پناہ دے کر ساتھ لے جائے اور کوئی آپ کی بات نہ سنا تھا اور آج یہ عالم تھا کہ سارا عرب آپ کے زیرنگیں تھا اور