اسوہء انسانِ کامل — Page 528
اسوہ انسان کامل 528 رسول کریم کا عدیم المثال عفو و کرم قبول کر نیکی بجائے مزاحمت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔فتح مکہ کے بعد پشیمان تھے کہ نامعلوم اب ان کے ساتھ کیا سلوک ہو۔چنانچہ انہوں نے نبی کریم کی چچا زاد بہن اُم ہانی سے معافی کیلئے سفارش چاہی۔یہ دونوں ان کے سسرالی عزیز تھے۔حضرت ام ہانی نے انہیں امان دے کر اپنے گھر میں ٹھہرایا۔پہلے اپنے بھائی حضرت علی سے ان کی معافی کیلئے بات کی۔حضرت علی نے صاف جواب دیا کہ ایسے معاندین اسلام کو تو میں خود اپنے ہاتھ سے قتل کروں گا۔تب ام ہانی نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ذرا سوچئے دو ظالم دشمنان اسلام کیلئے ایک عورت کی امان کیا حیثیت رکھتی ہے؟ مگر اُم ہانی نے نبی کریم کی خدمت میں جا کر عرض کیا کہ میرا بھائی علی کہتا ہے کہ وہ اس شخص کو جسے میں نے امان دی ہے قتل کرے گا۔آنحضرت کی وسعت حوصلہ دیکھو آپ نے فرمایا۔"اے اُم ہانی ! جسے تم نے امان دی اسے ہم نے امان دی۔“ چنانچہ ان دونوں دشمنان اسلام کو بھی معاف کر دیا گیا۔(مستدرک) حارث بن ہشام کو جو قریش کے سرداروں میں سے تھے۔نبی کریم نے صرف معاف ہی نہیں فرمایا ، سو اونٹوں کا تحفہ بھی عطا کیا۔بعد میں یہ غزوہ یرموک میں شامل ہوئے اور اس میں شہید ہوئے۔یہ وہی حارث ہیں جنہوں نے اپنے دو زخمی مسلمان بھائیوں عکرمہ اور عیاش کو پیا سادیکھ کر خود پانی پینے کی بجائے انہیں پلانے کا اشارہ کیا اور یوں ایثار کرتے ہوئے اپنی جان جاں آفریں کے سپر د کر دی تھی۔( ابن اثیر ) 28 27 حارث بن ہشام کا اپنا بیان ہے کہ جب اُم ہانی نے مجھے اطلاع دی کہ رسول اللہ نے ان کی پناہ قبول فرمالی ہے تو کوئی بھی مجھ سے تعرض نہیں کرتا تھا۔البتہ مجھے حضرت عمر کا ڈر تھا لیکن وہ بھی ایک دفعہ میرے پاس سے گزرے میں بیٹھا ہوا تھا مگر انہوں نے بھی کوئی تعرض نہ کیا۔اب مجھے صرف اس بات کی شرم تھی کہ میں رسول اللہ کو کیا منہ دکھاؤں گا کیونکہ حضور کو دیکھنے سے مجھے وہ تمام باتیں اور اپنی وہ دشمنیاں یاد آجائیں گی جو میں ہر موقعے پر آپ کے خلاف مشرکوں کے ساتھ مل کر کرتا رہا تھا، لیکن جب میں آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ملا، اس وقت وہ مسجد میں داخل ہورہے تھے۔آپ کمال شفقت سے میری خاطر رک گئے۔نہایت خندہ پیشانی اور بشاشت سے میرے ساتھ ملاقات فرمائی۔تب میں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا اور حق کی گواہی دے دی۔حضور نے اس موقع پر فرمایا حسب حمد اس اللہ کی ہے جس نے تمہیں ہدایت دی۔تمہارے جیسا عقلمند انسان اسلام سے کس طرح علم اور دور رہ سکتا تھا۔“ (حلبیہ ( 29 دلوں کی فتح رحمتہ للعالمین اہل مکہ کیلئے امان کا اعلان کرتے ہوئے خانہ کعبہ پہنچتے ہیں اور بعض بد بخت یہ منصوبے بنارہے ہیں کہ اگر آج اس عظیم فاتح کو قتل کر دیا جائے تو مسلمانوں کی فتح شکست میں بدلی جاسکتی ہے۔طواف کے وقت ایک شخص فضالہ بن عمیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے ارادہ سے آپ کے قریب آیا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کے نا پاک منصوبے کی اطلاع کر دی۔آپ نے نام لے کر بلایا تو وہ گھبرا گیا۔آپ نے پوچھا۔”کس ارادہ سے آئے ہو؟“