اسوہء انسانِ کامل — Page 527
اسوہ انسان کامل 527 رسول کریم کا عدیم المثال عفو و کرم ہیں ؟ اس نے کہا ہاں ! آپ نے فرمایا "جاؤ یہ سب جانور میں نے تمہیں بخش دیئے۔صفوان بے اختیار یہ کہہ اٹھا کہ خدا کی قسم ! اتنی بڑی عطا اور ایسی دریا دلی اتنی خوش دلی سے سوائے نبی کے کوئی نہیں کرسکتا یہ کہ کر وہیں رسول اللہ کے قدموں میں ڈھیر ہو گیا اور اسلام قبول کر لیا۔(ابن ھشام) 25 وحشی قاتل حمزہ سے در گذر واجب القتل مجرموں میں وحشی بن حرب بھی تھا۔جس نے اپنی غلامی سے آزادی کے لالچ میں غزوہ احد میں سامنے آکر مقابلہ کرنے کی بجائے چھپ کر اسلامی علمبر دار حضرت حمزہ پر قاتلانہ حملہ کر کے انہیں شہید کیا تھا۔فتح مکہ کے بعد وحشی طائف کی طرف بھاگ گیا۔بعد میں مختلف علاقوں سے سفارتی وفود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔وحشی کو کسی نے مشورہ دیا کہ نبی کریم سفارتی نمائندوں کا بہت احترام کرتے ہیں۔بجائے چھپ چھپ کر زندگی گزارنے کے تم بھی کسی وفد کے ساتھ دربار نبوی میں حاضر ہو کر عفو کی بھیک مانگ لو۔چنانچہ وہ طائف کے سفارتی وفد کے ساتھ آیا۔حضور سے آپ کے چاکے قتل کی معافی چاہی۔آپ نے دیکھ کر فرمایا تم وحشی ہو۔؟ اس نے کہا جی حضور ! اب میں اسلام قبول کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا حمزہ کو تم نے قتل کیا تھا؟“ اس نے اثبات میں جواب دیا۔آپ نے اس واقعہ کی تفصیل پوچھی۔اس نے بتایا کہ کس طرح تاک کر اور چھپ کر ان کو نیز امارا اور شہید کیا تھا۔یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کی اپنے محبوب چا کی شہادت کی یاد ایک بار پھر تازہ ہوگئی۔صحابہ نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔شاید اس وقت آپ کو حضرت حمزہ کے احسانات بھی یاد آئے ہوں گے۔وہ ابو جہل کی ایذاؤں کے مقابل پر آپ کی سپر بن کر اسلام کی کمزوری کے زمانہ میں مسلمان ہوئے تھے اور آخر دم تک نبی کریم کے دست و بازو بنے رہے۔یہ سب کچھ دیکھ کر اور قدرت و طاقت پا کر جذبات انتقام میں کسی قدر تلاطم برپا ہوسکتا ہے اس کا اندازہ اہل دل ہی کر سکتے ہیں۔مگر دوسری طرف وحشی قبول اسلام کا اعلان کر کے عفو کا طالب ہو چکا تھا۔رسول کریم نے کمال شفقت اور حوصلہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ جاؤ اے وحشی! میں تمہیں معاف کرتا ہوں۔کیا تم اتنا کر سکتے ہو کہ میری نظروں کے سامنے نہ آیا کرو؟ تا کہ اپنے پیارے چچا کی المناک شہادت کی دکھ بھری یاد مجھے بار بارستاتی نہ رہے۔وحشی نے رسول اللہ کا یہ حیرت انگیز احسان دیکھا تو آپ کے حسن خلق کا معترف ہوکر صدق دل سے مسلمان ہوا اور حضرت حمزہ کے قتل کا کفارہ ادا کرنے کی سوچ میں پڑ گیا۔پھر اس نے اپنے دل میں یہ عہد کیا کہ اب میں اسلام کے کسی بڑے دشمن کو ہلاک کر کے حضرت حمزہ کے قتل کا بدلہ چکاؤں گا۔حضرت ابو بکر کے زمانہ میں مسلیمہ کذاب کو قتل کر کے کیفر کردار تک پہنچانے والا یہی وحشی تھا جس کا دل محمد مصطفیٰ نے محبت سے جیت لیا تھا۔(الحلبیہ ) 26 حارث اور زمیر کی معافی حارث بن ہشام اور زہیر بن امیہ بھی عکرمہ اور صفوان کے ساتھیوں میں سے تھے۔انہوں نے نبی کریم ﷺ کی امان