اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 522 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 522

522 رسول کریم کا عدیم المثال عفو و کرم اسوہ انسان کامل گوشت کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اس نے بتایا۔حضور نے پوچھا کہ تمہارا مقصد کیا تھا؟ کہنے لگی میں نے سوچا اگر آپ نبی ہیں تو یہ زہر آپ کو کوئی نقصان نہیں دے گا۔اگر نہیں ہیں تو آپ سے ہماری جان چھوٹ جائے گی۔آنحضور نے اس عورت کو معاف کر دیا اور اسے کوئی سزا نہیں دی۔رسول کریم کے ایک صحابی ، جنہوں نے یہ گوشت کھایا تھا، کچھ عرصہ بعد زہر کے اثر سے فوت بھی ہو گئے اور رسول اللہ پر اس زہر کا اثر عمر بھر رہا۔آخری بیماری میں بھی آپ اپنے گلے میں اس کی وجہ سے تکلیف محسوس کرتے تھے۔(ابوداؤں ) 15 فتح مکہ کے موقع پر بھی رسول کریم نے عضو کے شاندار اور بے نظیر نمونے قائم فرمائے اور اس روز آپ نے محض مکہ کی بستی اور مکان ہی فتح نہیں کئے تھے بلکہ دراصل مکینوں کے دل بھی جیت لئے۔مرتدین کی معافی عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح بھی انہی لوگوں میں سے تھا جو رسول کریم کا کاتب وحی تھا۔اس نے کلام الہی میں تحریف اور خیانت کے جرم کا ارتکاب کیا۔جب اس کی یہ چوری پکڑی گئی تو بغاوت اور ارتداد اختیار کرتے ہوئے مسلمانوں کے حریف قریش مکہ سے جاملا۔وہاں جا کر اس جھوٹے الزام کی کھلم کھلا اشاعت کی کہ جو میں کہتا تھا اس کے مطابق وحی بنا کر لکھ لی جاتی تھی۔اسکی محاربانہ سرگرمیوں کے باعث اسے واجب القتل قرار دیا گیا۔بعض مسلمانوں نے نذرمانی کہ وہ اس دشمن خداور سول کو قتل کریں گے۔مگر عبد اللہ اپنے رضاعی بھائی حضرت عثمان غنی کی پناہ میں آکر معافی کا طالب ہوا۔رسول کریم نے معمولی تردد کے بعد حضرت عثمان کی بار بار درخواست پر کہ میں اسے امان دے چکا ہوں۔معاف کر کے اس کی بیعت قبول فرمالی۔بعد میں رسول کریم نے اپنے صحابہ سے (جن میں عبداللہ کے قتل کی نذر ماننے والے صحابی بھی شامل تھے ) پوچھا کہ جب تک میں نے اس کی معافی اور بیعت منظور نہیں کی تھی اس دوران عبد اللہ کو قتل کر کے اپنی نذر پوری نہ کر لینے کی کیا وجہ ہوئی ؟ کیونکہ نذر پوری کرنا اللہ کا حق ہے۔صحابہ نے عرض کیا آپ کا ادب مانع تھا۔حضور ”ہمیں ادنیٰ سا اشارہ ہی فرما دیتے کہ نذر پوری کرنے میں کوئی روک نہیں۔نبی کریم نے کیا خوبصورت جواب ارشاد فرمایا کہ آنکھ کے مخفی اشارے کی خیانت بھی نبی کی شان سے بعید ہے۔اس طرح کلام پاک میں خیانت کے مرتکب اس مجرم کے ساتھ بھی نبی کریم نے یہ سلوک روا رکھنا گوارا نہ فرمایا کہ اسے خاموشی سے قتل کروا دیا جائے۔غالباً صحابہ کو یہی سبق دینے کیلئے آپ نے ان سے یہ سوال پوچھا تھا۔ورنہ اس رسول امین کا فیصلہ تو یہ ہے کہ ایک مسلمان عورت نے بھی جسے امان دی وہ ہماری امان شمار ہوگی۔پھر حضرت عثمان جیسے جلیل القدر صحابی کی امان کے باوجود نبی کریم کی موجودگی میں کوئی کیسے جرات کر سکتا تھا کہ حضور کے کسی واضح فیصلہ سے قبل ایسا اقدام کرے بیعت کی قبولیت کے بعد عبداللہ اپنے جرائم کے باعث حیاء کی وجہ سے نبی کریموں کے سامنے آنے سے کتراتا تھا۔اس رحیم و کریم اور عالی ظرف رسول نے اسے محبت بھرا پیغام بھجوایا کہ اسلام قبول کرنا پہلے کے گناہ معاف کر دیتا