اسوہء انسانِ کامل — Page 38
اسوہ انسان کامل 38 سوانح حضرت محمد عام 96 رسول کریم ع یہاں نہیں روز قیام کے بعد واپس تشریف لائے۔اس سفر میں کل دو ماہ کا عرصہ لگا۔(ابن ہشام) واپسی پر رسول کریم ﷺ نے مدینہ کے قریب منافقین کی ایک مسجد کے بارہ میں اللہ تعالیٰ سے اطلاع پا کر کہ وہ مسجد ضرار ( یعنی باعث فتنه وضرر ) ہے مسمار کروا دیا۔(طبری) 97 تبوک میں ایک طرف گرمی کی شدت تھی دوسری طرف مدینہ میں کھجوریں پکنے کا موسم تھا اس وجہ سے کئی کمزور لوگ اس غزوہ میں شریک ہونے سے رہ گئے۔ان میں سے اکثر منافق تھے۔مدینہ واپسی پر انہوں نے اپنی غیر حاضری کے طرح طرح کے بہانے تراشے مگر تین صحابہ حضرت کعب بن مالک ، مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ نے اپنے اخلاص کی بنا پر صاف صاف اپنی سستی اور غلطی کا اقرار کیا۔رسول کریم ﷺ نے صحابہ کو ان سے کلام کرنے سے روک دیا۔پچاس دن کا عرصہ ان صحابہ نے سخت اذیت تکلیف اور مسلسل امتحان میں گزارا کہ قرآن کریم کے مطابق زمین ان پر تنگ ہوگئی مگر انہوں نے دعا اور توجہ اور استغفار سے کام لیا۔اس دوران حضرت کعب نے جو مشہور شاعر بھی تھے غسانی بادشاہ کے قاصد کا وہ خط تنور میں جلا کر راکھ کر دیا جس میں اس نے کعب کو اپنے ہاں عزت و اکرام کے وعدہ پر بلانے کی پیشکش کی تھی۔پچاسویں دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان تینوں صحابہ کی قبولیت تو بہ کا حکم اترا۔جس پر رسول ﷺ اور صحابہ نے ان کو مبارکباد دی۔اس سفر سے واپسی پر طائف کے مشرکین کا وفد مد ینہ آیا اور اسلام قبول کرنے کی سعادت پائی۔(بخاری) 98 انہی ایام میں حضرت علی کو دو سواروں کے ساتھ قبیلہ طے کی شرارتوں کی اطلاع پر سرکوبی کے لئے بھجوایا گیا۔جولوگ قید ہوئے ان میں حاتم طائی کی بیٹی سفانہ بھی تھی۔رسول کریم ﷺ نے اسے فورا آزاد کر دیا مگرخی باپ کی بیٹی نے اکیلے آزاد ہونا پسند نہ کیا۔رسول کریم ﷺ نے اس کے اعزاز میں اس کی قوم کے کل قیدی آزاد فرما دیئے۔اس کا بھائی عدی جو شام کی طرف بھاگ گیا تھا، کو اسکی بہن نے رسول کریم ﷺ کے احسانات کا ذکر کر کے آپ کے پاس بھجوایا اور اس نے اسلام قبول کر لیا۔(طبری) 99 ھ میں صاحبزادہ ابراہیم 16 ماہ کی عمر میں فوت ہو گئے۔رسول کریم ﷺ نے ان کی وفات پر فرمایا ”اگر میرا یہ بیٹا زندہ رہتا تو سچا نبی ہوتا مگر ان کی وفات پر آپ نے کمال صبر کا نمونہ دکھایا۔فرمایا ”آنکھیں اشکبار ہیں ر دل غمگین مگر زبان سے اللہ کی مرضی کے برخلاف کوئی بات نہ نکلے گی“۔اس موقع پر ہونے والے سورج گرہن کو جب لوگوں نے صاحبزادہ ابراہیم کی وفات کا نشان قرار دیا تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا کسی موت کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتا جب یہ نشان ظاہر ہو تو عاجزی سے نماز پڑھو اور دعا ئیں کرو“۔( بخاری ) 100 29 کا سال عام الوفود کے طور پر معروف ہے۔جس میں کثرت سے اطراف عرب سے قبائل مدینہ آئے