اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 507 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 507

اسوہ انسان کامل 507 مفتوح قوم کے مشرک سرداروں سے حسن سلوک مذہبی رواداری اور آزادی ضمیر کے علمبردار ابو جہل کا بیٹا عکرمہ اپنے باپ کی طرح عمر بھر رسول اللہ سے جنگیں کرتا رہا۔فتح مکہ کے موقع پر بھی رسول کریم کے اعلان عفو اور امان کے باوجود ایک دستے پر حملہ آور ہو کر حرم میں خونریزی کا باعث بنا۔اپنے جنگی جرائم کی وجہ سے ہی وہ واجب القتل ٹھہرا تھا۔فتح مکہ کے بعد جان بچانے کے لئے وہ یمن کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔اس کی بیوی رسول اللہ سے اس کے لئے معافی کی طالب ہوئی تو آپ نے کمال شفقت سے معاف فرما دیا۔وہ اپنے شوہر کو واپس لانے کے لئے گئی تو خود عکرمہ کو اس معافی پر یقین نہ آتا تھا۔چنانچہ اس نے دربار نبوی میں حاضر ہو کر اس کی تصدیق چاہی۔اس کی آمد پر رسول اللہ نے اس سے احسان کا حیرت انگیز سلوک کیا۔پہلے تو آپ دشمن قوم کے اس سردار کی عزت کی خاطر کھڑے ہو گئے پھر عکرمہ کے پوچھنے پر بتایا کہ واقعی میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔(مالک)11 عکرمہ نے پوچھا کہ کیا اپنے دین (حالت شرک) پر رہتے ہوئے آپ نے مجھے بخش دیا ہے آپ نے فرمایا ہاں۔اس پر مشرک عکرمہ کا سینہ اسلام کے لئے کھل گیا اور وہ بے اختیار کہہ اٹھا اے محمد آپ واقعی بے حد حلیم وکریم اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔رسول اللہ کے حسن خلق اور احسان کا یہ معجزہ دیکھ کر عکرمہ مسلمان ہو گیا۔(الحلبیہ )12 مشرکین کا ایک اور سردار صفوان بن امیہ تھا جو فتح مکہ کے موقع پر مسلمانوں پر حملہ کرنے والوں میں شامل تھا۔یہ بھی عمر بھر رسول اللہ سے جنگیں کرتا رہا۔اپنے جرائم سے نادم ہو کر فتح مکہ کے بعد بھاگ کھڑا ہوا تھا۔اس کے چاعمیر بن وہب نے رسول اللہ سے اس کے لئے امان چاہی۔آپ نے اپنا سیاہ عمامہ بطور علامت امان اُسے عطا فر مایا۔عمیر صفوان کو واپس مکہ لایا۔اس نے پہلے تو رسول اللہ سے اپنی امان کی تصدیق چاہی پھر اپنے دین پر رہتے ہوئے دوماہ کیلئے مکہ میں رہنے کی مہلت چاہی آپ نے چار ماہ کی مہلت عطا فرمائی۔محاصرہ طائف سے واپسی پر رسول اللہ نے تالیف قلب کی خاطر اسے پہلے سو اونٹ کا انعام دیا۔پھر سو اونٹ اور پھر سو اونٹ گویا کل تین صد اونٹ عطا فرمائے۔صفوان بے اختیار کہ اُٹھا اتنی بڑی عطا ایسی خوش دلی سے سوائے نبی کے کوئی نہیں دے سکتا۔چنانچہ وہ بھی مسلمان ہو گیا۔(الحلبیہ ( 13 فتح مکہ کے بعد بنو ثقیف کا وفد طائف سے آیا ، تو نبی کریم نے ان کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا اور ان کی خاطر تواضع کا اہتمام کروایا۔بعض لوگوں نے سوال اُٹھایا کہ یہ مشرک لوگ ہیں ان کو مسجد میں نہ ٹھہرایا جائے کیونکہ قرآن شریف میں مشرکین کو نجس یعنی نا پاک قرار دیا ہے۔نبی کریم نے فرمایا کہ اس آیت میں دل کی ناپاکی کی طرف اشارہ ہے، جسموں کی ظاہری گندگی مراد نہیں۔(حصاص)14 وفد ثقیف کے بعض لوگ تو مدینہ میں اپنے حلیفوں کے پاس ٹھہرے۔بنی مالک کے لئے نبی کریم نے خود خیمہ لگا کر انتظام کروایا اور آپ روزانہ نماز عشاء کے بعد جا کر ان سے مجلس فرماتے تھے۔(ابوداؤد )15