اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 498 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 498

اسوہ انسان کامل 498۔۔۔۔۔۔ہمارے نبی حامی و ایامی کے والی اور محافظ کھلاتے اور کھانا کھانے کے آداب سکھاتے۔( بخاری ) 37 حضرت عمر کی صاحبزادی حضرت حفصہ کے شوہر حضرت خنیس بن حذافہ نے احد میں شرکت کے بعد ایک زخم کی وجہ سے مدینہ میں وفات پائی۔حضرت عمرؓ کو اپنی جواں سال بیوہ ہونے والی بیٹی کے لئے طبعا پر یشانی تھی انہوں نے از خود اپنی بیٹی کا رشتہ اپنے قریب ترین اور قابل اعتماد دوستوں حضرت عثمان اور حضرت ابوبکر کے سامنے پیش کیا۔حضرت عثمان نے تو یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ فی الوقت ان کا شادی کا ارادہ نہیں۔مگر حضرت ابو بکر نے خاموشی اختیار کی جو حضرت عمر کو ناگوار گزری۔بعد میں حضرت ابو بکر نے ان کو بتایا کہ چونکہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ حضرت حفصہ کو عقد میں لینے کا ذکر فرما چکے تھے اس لئے افشائے راز کی بجائے خاموشی ہی مناسب تھی۔یہ بات حضرت عمر کے لئے باعث تسکین ہوئی۔یوں رسول اللہ ﷺ نے ایک صحابی کی بیوہ حضرت حفصہ کو عقد میں لے کر اپنے عزیز دوست حضرت عمرؓ کی پریشانی بھی دور فرمائی۔( بخاری )38 ام المومنین حضرت سودہ کے شوہر سکران اور حضرت ام حبیبہ کے شوہر عبیداللہ بن جحش بھی ہجرت حبشہ کے دوران وفات پاگئے اور وہ بیوہ ہوئیں تو ان سے رسول اللہ نے نکاح فرمایا۔ام المومنین حضرت میمونہ سے نکاح حضرت عباس کی تحریک پر تھا جو ان کی نسبتی بہن تھیں۔انہوں نے ہی رسول اللہ کی خدمت میں ان کی ہوگی کا ذکر کر کے یہ پیشکش کی جسے آپ نے قبول فرمایا۔حضرت جویریہ کے شوہر غزوہ بنو مصطلق میں اور حضرت صفیہ کے شوہر غزوہ خیبر میں حالت کفر میں مارے گئے اور وہ بیوہ ہو گئیں۔جس کے بعد آنحضرت امیہ نے ان سے عقد فرمایا۔الغرض رسول اللہ نے بیوگان کے حقوق کی ادائیگی کا بہترین عملی نمونہ پیش کر کے دکھایا۔خدمت کا یہ کام جس ذاتی توجہ، محنت اور قربانی کو چاہتا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔رسول اللہ معاشی لحاظ سے کمزور بیوگان کی ضرورت کا خاص طور پر خیال رکھتے اور ان کی امدا د فرماتے رہتے تھے۔ایک دفعہ آپ نے کسی قافلہ سے تجارتی سودا کیا۔اس کی قیمت آپ کے پاس میسر نہ تھی۔وہ آپ نے فروخت کر دیا رجتنا نفع ملا وہ سارا اپنے خاندان عبدالمطلب کی بیواؤں میں بطور صدقہ بانٹ دیا۔(ابوداؤد )39 افاضہ سیرت رسول آنحضرت ﷺ کی پاکیزہ سیرت کے فیض کا ہی کرشمہ تھا کہ ملک عرب میں ایک انقلاب بر پا ہوا جو محض آپ کی ذات تک محدود نہ رہا بلکہ آپ کے بعد بھی یہ کمزور طبقے آپ کے احسانات کے مرہون منت رہے اور ہیں۔آپ کے بعد آپ کے خلفاء نے بھی کمزوروں کے حقوق کی ادائیگی کے یہی خوبصورت نمونے دکھائے۔حضرت ابو بکر خلیفہ اول بیت المال میں کچھ جمع رکھنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی راہ میں کھلے دل سے خرچ کرتے رہتے تھے۔ایک دفعہ سردی کے موسم میں کچھ ریشمی چادر میں دیہات سے آئیں جو آپ نے خرید کر مدینہ کی تمام بیواؤں میں تقسیم فرما دیں۔آپ کی وفات کے بعد بیت المال میں کوئی دینار یا ور ہم باقی نہ تھا۔جھاڑو دینے پر بھی صرف ایک درہم نکلا۔خزانچی کو بلا کر پوچھا گیا تو اس نے کہا دو لاکھ دینار کے قریب مال تھا جو حضرت ابوبکر کے پاس بیت المال میں آیا