اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 499 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 499

499 ہمارے نبی حامی و ایامی کے والی اور محافظ اسوہ انسان کامل اور وہ سب ضرورت مندوں، یتامی ، مساکین ، بیوگان ، اور غلاموں وغیرہ میں تقسیم کر دیا گیا۔(ابن سعد ) 40 حضرت عمر خلیفہ ثانی میں بھی ضرورت مندوں کی خدمت کا یہی جذبہ موجزن تھا۔حضرت سعد بن خولی ایک غلام تھے۔جواحد میں شہید ہو گئے ، ان کا بیٹا عبد اللہ یتیم رہ گیا۔حضرت عمر نے اپنے زمانہ خلافت میں ان کا وظیفہ انصار کے برابر مقرر فرمایا تھا۔(اصابہ (41 حضرت اسلم بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عمرؓ کے ساتھ بازار گیا۔وہاں ایک عورت ان سے ملی اور عرض کیا اے امیر المؤمنین! میرا خاوند فوت ہو گیا اور بچے چھوٹے ہیں۔جن کا فاقہ سے برا حال ہے۔نہ ہماری کوئی کھیتی ہے نہ جانور اور مجھے ڈر ہے کہ یہ یتیم بچے بھوک سے ہلاک نہ ہو جائیں اور میں ایماء غفاری کی بیٹی خفاف ہوں، میرا باپ حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شامل تھا۔حضرت عمر یہ سن کر اس بی بی کے احترام میں وہیں رک گئے فرمایا ” اتنے قریبی تعلق کا حوالہ دینے پر میں تمہیں خوش آمدید کہتا ہوں۔پھر گھر میں بندھے ایک مضبوط اونٹ پر دو بورے غلے کے بھرے ہوئے لدوائے۔ان کے درمیان دیگر اخراجات کے لئے رقم اور کپڑے رکھوائے اور اونٹ کی مہار اس خاتون کو تھما کر فرمایا یہ تو لے جاؤ اور انشاء اللہ اس کے ختم ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ آپ کے لئے اور بہتر سامان پیدا فرمادے گا۔‘ ( بخاری )42 آپ نے اپنی شہادت سے چند روز قبل اپنے بعض اصحاب کے سامنے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے مہلت دی اور زندگی نے وفا کی تو میں عراق کی بیواؤں کے لئے ایسے انتظام کروں گا جس کے بعد ان کو کوئی احتیاج باقی نہیں رہے گی۔( بخاری )43 حضرت محمد ﷺ کے دیگر صحابہ بھی بتامی اور بیوگان کی خدمت میں سرگرم رہتے تھے۔نبی کریم ﷺ کو اپنے صحابہ کے مراتب ایک کشفی نظارہ میں دکھائے گئے۔جن کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف سے فرمایا۔کہ آپ سخت پسینہ سے شرابور حالت میں آئے تو میں نے آپ سے پوچھا کہ میرے پاس آنے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی کہ مجھے آپ کی ہلاکت کا اندیشہ ہوا۔آپ نے عالم کشف میں جواب دیا اے اللہ کے رسول میرے مال کی کثرت۔بس میں اسی بات میں وقف رہا کہ میں نے اپنا مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔حضرت عبدالرحمن بن عوف حضور سے اپنے بارہ میں یہ نظارہ سن کر رو پڑے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ یہ اناج سے لدی سوسواریاں آج رات ہی مصر کی تجارت سے آئی ہیں۔میں آپ کو گواہ ٹھہراتا ہوں کہ یہ سب مدینہ کی بیوہ عورتوں اور یتیم بچوں کے لئے صدقہ کرتا ہوں۔شاید اس طرح اللہ تعالیٰ اس دن میرا کچھ بوجھ ہلکا کر دے۔(ابن عساکر )44 رسول اللہ ﷺ نے اپنے زمانہ کے یتیموں سے ہی حسن سلوک کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ قیامت تک آنے والے تیموں اور کمزوروں کے حقوق اس اعلان کے ذریعہ محفوظ کر دیئے کہ جس کا کوئی نہیں اس کا میں ہوں گا۔چنانچہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی مومن فوت ہو جائے اور ترکہ میں کوئی مال چھوڑے تو اسکے قریبی رشتہ دار اس کے وارث ہوں گے اور جو اس حال میں مر جائے کہ اس پر قرض ہو اور کمزور اولا دیا ضائع ہونے والے یتیم بچے چھوڑ جائے تو وہ میرے پاس