اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 491 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 491

اسوہ انسان کامل 491 ہمارے نبی حامی و ایامی کے والی اور محافظ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے اور اس عبادت گزار کی طرح ہے جو تھکتا نہیں اور اس روزہ دار کی طرح ہے جو افطار نہیں کرتا“۔( بخاری )6 یتامی کے حق میں جو علم جہاد آپ نے بلند کیا اس میں اپنے ساتھ شریک جہاد ہو نیوالوں کے بارہ میں فرمایا کہ یتیم کی کفالت کرنے والا اور میں جنت میں دو انگلیوں کی طرح ملے ہوں گے اور آپ نے اپنی انگشت شہادت اور وسطی انگلی کو ملا کر دکھایا۔دوسری روایت کے مطابق فرمایا بشر طیکہ کفالت یتیم کرنے والا اللہ سے ڈرتے ہوئے اس کے حق ادا کرے۔(بخاری)7 حضرت ابوامامہ کی روایت ہے کہ رسول کریم نے فرمایا جس شخص نے کسی یتیم بچے کے سر پر محض خدا کی خاطر ہاتھ پھیرا تو ہر بال کے عوض جسے اس کے ہاتھ نے چھوا اُسے کئی نیکیاں عطا کی جائیں گی اور جس نے کسی یتیم بچی کی عمدہ تربیت یا اپنے زیر پرورش کسی یتیم بچے سے حسن سلوک کیا۔میں اور وہ جنت میں ان دوانگلیوں کی طرح اکٹھے ہوں گے اور آپ نے وسطی انگلی اور انگشت شہادت میں فرق ڈال کر دکھایا۔( احمد ) 8 علامہ ابن بطال نے اس جگہ ایک لطیف بات لکھی ہے کہ جو شخص بھی یتیم کی کفالت کے عوض رسول اللہ کی معیت والی حدیث سنے اس پر لازم ہے کہ اس پر عمل کرے تا کہ اسے جنت میں اپنے آقا ومولا کی رفاقت نصیب ہو۔کیونکہ اخروی زندگی میں اس سے افضل مقام اور کوئی نہیں ہوسکتا۔( ابن حجر ) 9 رسول کریم نے یتیم بچے کے لطیف جذبات کا احساس کرتے ہوئے اس کے بارہ میں تفصیلی ہدایات دیں اور فرمایا: جس نے مسلمانوں کے کسی یتیم بچے کو اپنے کھانے پینے میں شریک کیا اللہ اسے جنت عطا فرمائے گا سوائے اسکے کہ اس نے کوئی ایسا گناہ کیا ہو جو قابل بخشش نہ ہو۔(ترمذی )10 حضرت ابو درداء نے حضرت سلمان فارسی گو ( جن کے ساتھ رسول کریم نے ان کی اسلامی مواخات کروائی تھی ) ایک خط میں لکھا کہ اے میرے بھائی یتیم کے ساتھ رحم کا سلوک کرنا اور اسے اپنے قریب رکھنا ، اس کے سر پر ہاتھ پھیرنا اور اسے اپنے کھانے میں سے کھانا کھلانا۔میں نے رسول کریم ﷺ کوفرماتے سنا، جب ایک شخص نے آپ کے سامنے اپنے دل کی حتی کا ذکر کیا تو آپ نے اسے فرمایا کیا تم چاہتے ہو کہ تمہارا دل نرم ہو اور حاجتیں پوری ہوں تو یتیم کو اپنے پاس رسائی دو۔اس کے سر پر ہاتھ پھیرو اور اپنے کھانے میں سے اسے کھلاؤ۔یہ نیکی تمہارے دل کو نرم کرنے کا موجب ہوگی اور تمہاری حاجتیں پوری ہوں گی۔اسی طرح فرمایا جس دستر خوان پر یتیم کھانا کھاتا ہے وہاں شیطان نہیں تا(یعنی بے برکتی نہیں ہوتی ) ( طبرانی) 11 آپ نے نفسیاتی طور پر یتیم بچے کو احساس کمتری سے بچانے کی خاطر نہایت باریک بینی سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے کا طریق تک اپنے صحابہ کو سمجھایا جو عام بچوں کے مقابل پر ایک امتیازی شان کا حامل ہے۔حضرت عبداللہ سے فرمایا کہ یتیم کے سر پر اس طرح ہاتھ پھیرا جاتا ہے پھر آپ نے اس کی پیشانی کے قریب سر کے اگلے حصہ پر ہاتھ رکھا اور اسے سر کے درمیان تک لے گئے اور پھر واپس پیشانی تک لائے اور فرمایا اگر اس کا باپ موجود ہو تو پھر سر کے درمیان