اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 479 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 479

اسوہ انسان کامل 479 رسول اللہ کا غلاموں سے حسن سلوک رسول اللہ کا غلاموں سے حسن سلوک ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر طبقہ کے لئے رحمت بن کر آئے تھے۔جس زمانہ میں آپ مبعوث ہوئے اس میں نہ مذہبی آزادی میسر تھی نہ حریت ضمیر۔حضرت عمررؓ کا یہ قول کتنا سچا ہے کہ ماؤں نے تو سب انسانوں کو آزاد جنا تھا تم نے کب سے ان کو غلام بنالیا؟ مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس زمانے میں انسانوں کی غلامی کا رواج تھا۔طاقتور قومیں یا قبائل حملہ آور ہو کر جسے چاہتے قید کر کے غلام بنا لیتے تھے۔محسنِ انسانیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت کو جن طوقوں سے نجات دلائی ان میں ایک غلامی کا طوق بھی ہے آپ کے ذریعہ غلامی کے خاتمہ کا یہ اعلان کیا گیا کہ:۔سوائے اس کے کہ خونریز جنگ ہو اور مد مقابل دشمن تمہارے آدمی قید کرے بلا وجہ کسی کو قیدی نہیں بنایا جاسکتا۔“ (سورۃ الانفال : 68) ایسی مجبوری میں جولوگ قید ہو کر غلام بن جائیں۔انہیں غلامی سے نجات دلانے کیلئے رسول کریم نے کئی طریق اعلان فرمائے۔ایک یہ کہ فدیہ تاوان جنگ دے کر جنگی قیدی آزاد ہو سکتا ہے۔اگر یکمشت ادا ئیگی نہیں کر سکتا تو اس کو مکاتبت کا حق ہے یعنی ایک قیمت مقرر کروا کے بالاقساط ادائیگی کے ذریعہ وہ آزاد ہوسکتا ہے۔جنگ بدر میں ستر کفار مکہ قیدی ہوئے۔ان لوگوں اور ان کے اقارب نے مسلمانوں پر مکہ میں سخت مظالم ڈھائے تھے جس کی وجہ سے مسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا اور وہ مدینہ آکر آباد ہوئے مگر مدینہ میں بھی ان ظالموں نے مسلمانوں کو چین سے نہ رہنے دیا اور نہتے مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے۔لیکن نبی کریم نے کفار قریش کے ان قیدیوں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کی تعلیم دی۔رسول کریم ﷺ نے مختلف گھرانوں میں بدر کے قیدی تقسیم کرتے ہوئے فرمایا دیکھو ان قیدیوں کا خیال رکھنا۔“ ابوعزیز بن عمیر ( جو حضرت مصعب بن عمیر کے بھائی تھے ) بھی ان قیدیوں میں تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں انصار کے ایک گھرانے میں قید تھا۔جب وہ صبح یا شام کا کھانا کھاتے تو مجھے خاص طور پر روٹی مہیا کرتے اور خود کھجور پر گزارا کر لیتے کیونکہ رسول اللہ اللہ نے ان کو قیدیوں کے بارے میں حسن سلوک کی ہدایت فرمائی تھی۔ان کے خاندانوں کے کسی فرد کے ہاتھ میں روٹی کا کوئی ٹکڑا آجاتا تو وہ مجھے پیش کر دیتا۔میں شرم کے مارے واپس کرتا مگر وہ مجھے ہی لوٹا دیتے۔(ابن ہشام و سیمی ) 1 انہی قیدیوں میں سے حضرت عباس کے جسم پر کوئی قمیص نہ تھا۔رسول کریم کو ان کے لئے قمیص تلاش کروانا پڑا کیونکہ