اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 474 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 474

474 نبی کریم کا حسن معاشرت بحیثیت دوست و پڑوسی اسوہ انسان کامل غالب آگئی ہے؟ انصار نے سچ سچ اپنے خدشات بلا کم و کاست عرض کر دئیے۔تب خدا کے رسول نے اطمینان دلاتے ہوئے بڑے جلال سے فرمایا کہ اگر میں ایسا کروں تو دنیا مجھے کیا نام دے گی؟ میں پوچھتا ہوں مجھے بتاؤ تو سہی کہ بھلادنیا مجھے کسی اچھے نام سے یاد کرے گی؟ اور میرا نام تو محمد ہے یعنی ہمیشہ کیلئے تعریف کیا گیا۔تم مجھے کبھی بے وفا نہیں پاؤ گے۔بے شک میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔وہ وطن جو میں نے خدا کی خاطر چھوڑا تھا اب میں لوٹ کر کبھی اس میں واپس نہیں آسکتا ہوں۔اب میں تمہارا جیون مرن کا ساتھی بن چکا ہوں۔میرے مکہ میں رہ جانے کا کیا سوال؟ اب تو سوائے موت کے مجھے کوئی اور چیز تم جیسے وفاداروں اور پیاروں سے جدا نہیں کر سکتی۔انصار مدینہ جو جذبات عشق سے مغلوب ہو کر ان وساوس میں مبتلا ہوئے تھے سخت نادم اور افسردہ ہوئے کہ ہم نے نا حق اپنے آقا کا دل دکھایا۔پھر کیا تھا وہ ڈھائیں مار مار کر رونے لگے۔روتے روتے ان کی ہچکیاں بندھ گئیں۔انہوں نے عرض کیا کہ خدا کی قسم ! ہم نے جو یہ بات کی تو محض خدا اور اس کے رسول کے ساتھ پیار کی وجہ ہی کی تھی کہ اس سے جدائی ہمیں گوارا نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ان وفادار ساتھیوں کو دلاسا دیا اور فرمایا اللہ اور رسول تمہارے اس عذر کو قبول کرتے ہیں۔اور تمہیں مخلص اور سچا قرار دیتے ہیں۔( مسلم ) 27 جس طرح فرد کے فرد کے ساتھ خوشگوار تعلقات معاشرہ کے امن واستحکام کی ضمانت ہیں۔اسی طرح ایک گھرانے کے گھرانے سے محبت بھرے تعلقات کے نتیجہ میں بھی ماحول میں وحدت پیدا ہوتی ہے۔رسول کریم نے اس پہلو سے ہمسایوں سے حسن سلوک کی تعلیم دے کر اس مضمون کو بہت وسیع کر دیا ہے۔آپ نے فرمایا’ چالیس گھروں تک ہمسایہ کا حق ہوتا ہے۔“ تمام دنیا جومحمد مصطفیٰ سے منسوب ہوتی ہے۔آپ سے محض حق ہمسائیگی ادا کرنا ہی سیکھ لے اور اس بارہ میں آپ کی تعلیم پر عمل پیرا ہو تو ایک فرد اپنے ساتھی کا خیال رکھے، ہر گھرانہ اپنے ہمسایہ گھرانے کا خیال رکھے پھر ایک محلہ ہمسایہ محلے کا ، ایک شہر ہمسایہ شہر کا اور ایک ملک ہمسایہ ملک کے حقوق ہمسائیگی کا خیال رکھے تو دنیا امن کا گہوارہ بن جائے۔الغرض حق ہمسائیگی کے بارہ میں نبی کریم کی تعلیم بے نظیر ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک اچھے دوست وہ ہیں جو اپنے دوست کے لئے بہتر ہیں۔اور بہترین ہمسائے اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو اپنے ہمسائے کے لئے بہتر ہیں۔(ترمذی) 28 نیز فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی بھلائی چاہتا ہے تو اسے اپنے ہمسایوں میں محبوب بنا دیتا ہے۔( احمد ) 29 حضرت ابوذر بیان کرتے تھے کہ رسول کریم نے مجھے نصیحت فرمائی کہ جب سالن کا شور بہ بناؤ تو پانی زیادہ ڈال لیا کرو۔اپنے ہمسایوں میں سے کسی کو تحفہ بھجوا دو۔“ (مسلم ) 30 رسول کریم ﷺ نے بڑی تفصیل سے ہمسائے کے حقوق بیان کئے اور فرمایا جو شخص اپنا دروازہ اپنے ہمسائے پر بند