اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 33 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 33

اسوہ انسان کامل 33 سوانح حضرت محمد علی بھجوایا۔مہاجرین حبشہ فتح خیبر سے واپسی پر رسول کریم ﷺ کو آ کر ملے تو آپ نے فرمایا میں نہیں کہ سکتا کہ مجھے فتح خیبر کی زیادہ خوشی ہے یا جعفر اور اس کے ساتھیوں کی آمد کی۔( ابن سعد ) 84 غزوہ خیبر ہجرت مدینہ کے بعد مسلمانوں کو شمال میں مکہ کے علاوہ دوسرا خطرہ جنوب میں یہود خیبر سے تھا جہاں یہود کے قبائل جلا وطن ہونے کے بعد ا کٹھے ہو گئے تھے۔صلح حدیبیہ کے بعد مشرکین مکہ کے حملہ کا خطرہ تو ٹل گیا مگر خیبر میں یہود نے سراٹھایا۔اور قبائل غطفان کو ساتھ ملا کر مدینہ پر حملہ کا ارادہ کیا۔رسول کریم ﷺ نے فوری پیش قدمی کر کے دفاع کا فیصلہ کیا اور 7 ھ میں سولہ سوصحابہ کو ساتھ لے کر خیبر اور غطفان کے درمیان پڑاؤ فرمایا۔جس کے نتیجہ میں یہود کے حلیف قبائل غطفان سے کٹ کر رہ گئے۔لڑائی شروع ہوئی تو پہلے کھلے میدان میں مقابلہ ہوا۔ان کے بڑے پہلوان مارے گئے تو یہودی قلعہ بند ہو گئے۔مسلمان ایک کے بعد دوسرا قلعہ فتح کرتے گئے۔یہاں تک کہ آخری مضبوط قلعہ رہ گیا جہاں باقی ماندہ یہود نے اکٹھے ہو کر اپنا پورا زور صرف کر دیا اور محاصرہ پر ہمیں دن ہو گئے۔تب رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ کل میں ایک ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر فتح ہو گی۔اگلے روز آپ نے حضرت علی ” کو علم عطا فرمایا اور ان کے ذریعہ یہ قلعہ فتح ہو گیا۔(الحلبیہ ( 85 محاصرہ خیبر کے دوران رسول کریم اللہ کے دیگر اخلاق فاضلہ کے ساتھ امانتداری کا یہ شاندار واقعہ بھی ظاہر ہوا جب ایک یہودی رئیس کا گلہ بان مسلمان ہو گیا تو اس نے بکریوں کے ریوڑ کے بارہ میں پوچھا۔آپ نے فرمایا ان بکریوں کے منہ قلعہ کی طرف کردو۔اللہ تعالیٰ ان کو اپنے مالک کے پاس پہنچا دے گا۔چنانچہ بکریاں قلعہ میں پہنچ گئیں۔( ابن ہشام) 86 آج کی مہذب دنیا ایسے عظیم اخلاق کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے کہ محصور دشمن کی رسد روکنے کی بجائے الٹا اس کے لئے مہینوں کی غذا کا سامان کر دیا جائے۔مگر امانت ودیانت پر آنچ نہ آنے پائے۔رسول کریم ﷺ نے یہود خیبر کی درخواست پر وہاں کی زمینیں نصف پیداوار کی شرط پر ان کے سپرد کر دی تھیں مگر وہ پھر بھی اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے اور ایک یہودی عورت کے ذریعہ رسول کریم ﷺ کو بھنے ہوئے گوشت میں زہر دینے کی کوشش کی گئی جس کے نتیجہ میں ایک صحابی حضرت بشیر " شہید ہوئے اور خود رسول کریم ﷺ کے حلق میں وفات تک اس زہر کا اثر رہا۔رسول کریم ﷺ نے اس یہودیہ کو بلوا کر وجہ پوچھی تو کہنے لگی میں نے سوچا اگر آپ نبی ہیں تو زہر کے اثر سے بچ جائیں گے اور اگر نبی نہیں تو ہمیں آپ سے نجات مل جائے گی“۔رسول کریم نے اس جانی دشمن کو بھی معاف فرما دیا۔( بخاری ) 87 دوسرا احسان آپ نے یہود خیبر پر یہ کیا کہ یہود کے سردار کی بیٹی صفیہ ( جو قید ہو کر حضرت دحیہ کلبی کے