اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 34 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 34

اسوہ انسان کامل 34 سوانح حضرت محمد علی حصہ میں آئی تھیں ) کو آزاد کر کے آپ نے صحابہ کے مشورہ پر اپنے حرم میں داخل کر لیا اور ان کے عوض حضرت دحیہ کو اور لونڈی دے دی۔اس طرح حضرت صفیہ کی وہ خواب بھی پوری ہو گئی جس میں انہوں نے دیکھا تھا کہ چاند ان کی جھولی میں آگرا ہے اور ان کے والد نے اس کی تعبیر عرب کے بادشاہ کے ساتھ شادی کرنے سے کی تھی۔حضرت صفیہ " سے شادی کا مقصد بھی یہود کو اسلام کے قریب کرنا تھا۔خود حضرت صفیہ رسول اللہ اللہ کے اخلاق حسنہ سے انتہائی متاثر ہو کر آپ پر دیوانہ وار فدا تھیں۔آپ کی آخری بیماری میں عرض کرتی تھیں کہ ”اے کاش! آپ کی تکالیف مجھے مل جائیں“۔رسول کریم میں اللہ نے تمام بیویوں سے فرمایا کہ واللہ یہ سچی ہے“۔ھ میں رسول کریم ﷺ نے حضرت عباس کی تحریک پر ان کی نسبتی بہن حضرت میمونہ سے شادی کی۔( ازواج ) 88 یہ حضور علی کی آخری شادی تھی۔تعدد ازواج کی دیگر معروف حکمتوں اور ضرورتوں کے علاوہ رسول کریم ﷺ کی ذات میں اس کی بہت برکات ظاہر ہوئیں۔اول ان ازواج کے ذریعہ مسلمان عورتوں کی تربیت کے سامان ہوئے۔دوسرے ان شادیوں کے ذریعہ عرب کے تمام قبائل سے رشتہ داری ہوگئی اور وہ اسلام کی طرف مائل ہوئے۔تیسرے ان قبائل کی عورتوں نے اپنی رشتہ دار ازواج مطہرات سے مسائل سیکھے۔اگر رسول کریم ﷺ کا مقصد ان شادیوں سے عیاشی ہوتا جیسا کہ بعض غیر مسلم اعتراض کرتے ہیں تو آپ بجائے بیوہ اور عمر رسیدہ عورتوں کے نوجوان کنواری عورتوں سے شادی کرتے۔ھ میں صلح حدیبیہ کی شرط کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہزار صحابہ کے ساتھ عمرۃ القضاء کیا اور حسب وعدہ صرف تین دن مکہ میں قیام کے بعد مدینہ تشریف لے گئے۔اسی زمانہ میں قریش مکہ کے دو بڑے سرداروں حضرت عمرو بن العاص اور حضرت خالد بن ولید نے مدینہ آکر اسلام قبول کرنے کی سعادت پائی۔غزوہ ذات الرقاع بھی اسی سال کا واقعہ ہے۔(ابن ہشام) جنگ موتہ 89 90 میں رسول کریم ہے نے شامی سرحد پر عیسائی عرب قبائل کی طرف سے مدینہ پر حملہ کی تیاریوں کی اطلاع پا کر ایک خبر رساں دستہ بھجوایا۔جس پر حملہ کر کے بعض صحابہ کو شہید کر دیا گیا تو آپ نے بصری کے حاکم شرحبیل کو بھی ایک تبلیغی خط بھجوایا مگر اس نے قاصد کو بے دردی سے قتل کر دیا جو کھلم کھلا اعلان جنگ تھا۔رسول کریم ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ کی سرکردگی میں تین ہزار جاں نثاروں کا ایک لشکر تیار کر کے شام روانہ کیا۔( بخاری ) موتہ کے مقام پر شرحبیل کی فوج کے ساتھ ایک خطر ناک مقابلہ میں اسلامی جرنیل حضرت زید، حضرت جعفر اور حضرت عبداللہ یکے بعد دیگرے شہید ہو گئے۔آخر حضرت خالد بن ولید نے کمان سنبھالی اور لڑائی کا پانسا پلٹ دیا۔آنحضرت ﷺ نے انہیں بہادری کے جوہر دکھانے پر سیف اللہ کا خطاب دیا۔(ابن ہشام) 91