اسوہء انسانِ کامل — Page 458
458 اہلی زندگی میں رسول کریم کا بہترین نمونہ اسوہ انسان کامل دے دیا۔آنحضرت کو پتہ چل گیا تو آپ نے بہت سرزنش کی۔فرمایا یہ ایسا ست کلمہ تم نے کہا کہ تلخ سمندر کے پانی میں بھی اس کو ملا دیا جائے تو وہ اور کڑوا ہو جائے۔(ابوداؤد 62) گویا آپ نے لَا تَنَابَزُو بِالْأَلْقَابِ (الحجرات :12 ) کے قرآنی حکم کی سختی سے پابندی کروائی۔بلا امتیاز عادلانہ فیصلوں کا یہ اصول تادم واپسی برقرار رہا۔آخری بیماری میں جب حضور نے حضرت ابوبکر کو امامت نماز کا ارشاد فرمایا تو حضرت عائشہ نے اس خیال سے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی تو لوگ ابو بکر کے مصلے پر آنے کی بدشگونی نہ لیں یہ مشورہ دیا کہ حضرت عمرؓ کو نماز پڑھانے کے لئے کہہ دیا جائے۔حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ نے مل کر اس پر اصرار بھی کیا۔مگر آپ نے سختی کے ساتھ امامت ابوبکر کا فیصلہ ہی نافذ کیا اور فرمایا۔دستم یوسف کو راہ راست سے بہکانے والی عورتوں کی طرح مجھے کیوں راہ حق سے ہٹانا چاہتی ہو۔( بخاری )63 الغرض ہمارے آقا ومولیٰ نے کمال عدل اور احسان اور مروت کے ساتھ اہلی زندگی میں اپنے حقوق ادا کئے۔ازواج مطہرات کی چاہت آنحضرت ﷺ کی ان کمال ذرہ نوازیوں کا نتیجہ تھا کہ آپ کی تمام بیویاں آپ پر جان چھڑکتی تھیں۔زمانہ قرب وفات میں جب آنحضرت نے اپنی بیویوں سے فرمایا کہ ”تم میں سے زیادہ لمبے ہاتھوں والی مجھے سب سے پہلے دوسرے جہان میں آملے گی تو بیویوں کی محبت کا یہ عالم تھا کہ عجب عالم شوق میں انہوں نے باہم ہاتھ ماپنے شروع کر دیئے کہ وہ کون خوش نصیب بیوی ہے جو اس دار فانی سے کوچ کر کے اس دوائی گھر میں اپنے آقا کے قدموں میں سب سے پہلے پہنچتی ہے۔بیویوں کی آپ سے اس درجہ کی محبت اور عشق آپ کے حسن و احسان پر گواہ ہے۔ہمارے آقا و مولیٰ ﷺ کے حسن و احسان کے ان جلووں نے بلاشبہ آپ کی اہلی زندگی کو جنت نظیر بناد یا تھا تبھی تو دوسرے جہان کی جنت کے لئے بھی آپ کی بیویاں آپ سے ملنے کے لئے اتنی بے قرار نظر آتی ہیں۔ایک سابق عیسائی راہبہ پروفیسر کیرن آرمسٹرانگ نے تعدد ازدواج پر اہل مغرب کا جنس پرستی کا اعتراض رڈ کرتے ہوئے اپنی کتاب ”محمد“ میں لکھا۔"But, seen in context, polygamy was not designed to improve the sex life of the boys۔it was a piece of social legislation۔The problem of orphans had exercised Muhammad since the beginning of his career and it had been exacerbated by the deaths at Uhud۔The men who had died had left no only widows but daughters, sisters and other relatives who needed a new protector۔Their new guardians might not be scrupulous about administering the property of these orphans: some might even keep these women