اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 452 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 452

اسوہ انسان کامل 452 اہلی زندگی میں رسول کریم کا بہترین نمونہ ہے کہ ایک ایرانی باشندہ رسول کریم کا ہمسایہ تھا، جو سالن بہت عمدہ پکاتا تھا۔اس نے ایک دن رسول کریم کے لئے کھانا تیار کیا اور آپ کو دعوت دینے آیا۔آنحضور کی باری عائشہ کے ہاں تھی۔وہ اس وقت پاس ہی تھیں آپ نے ان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ کیا یہ بھی ساتھ آجائیں۔اُس نے غالباً تکلف اور زیادہ اہتمام کرنے کے اندیشے سے نفی میں جواب دیا آپ نے فرمایا پھر میں بھی نہیں آتا۔تھوڑی دیر بعد وہ دوبارہ بلانے آیا تو آپ نے پھر فرمایا میری بیوی بھی ساتھ آئے گی؟ اس نے پھر نفی میں جواب دیا تو آپ نے دعوت میں جانے سے معذرت کر دی۔وہ چلا گیا، تھوڑی دیر بعد پھر آکر گھر آنے کی دعوت دی تو آپ نے پھر اپنا وہی سوال دہرایا کہ عائشہ بھی آجائیں تو اس مرتبہ اس نے حضرت عائشہ کو ہمراہ لانے کی حامی بھر لی۔اس پر آپ اور حضرت عائشہ دونوں اس ایرانی کے گھر تشریف لے گئے اور وہاں جا کر کھانا تناول فرمایا۔(مسلم ) 44 حضرت علی روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ فاطمہ اور میں فاقہ سے تھے۔میں گھر آیا تو دیکھا کہ فاطمہ مغموم بیٹھی ہیں میں نے سبب پوچھا تو بولیں کہ نہ ہم نے رات کھانا کھایا نہ صبح اور نہ ہی آج شام کھانے کے لئے گھر میں کچھ ہے۔میں باہر نکلا اور جا کر محنت مزدوری کر کے ایک درہم کا غلہ اور گوشت خرید لایا۔فاطمہ نے پکایا اور کہنے لگیں آپ جا کر میرے ابا کو بھی بلالا ئیں تو وہ بھی ہمارے ساتھ کھانا کھا لیں۔حضرت علی کہتے ہیں میں گیا تو رسول کریم مسجد میں لیے ہوئے یہ دعا کر رہے تھے اعُوذُ بِاللهِ مِنَ الْجُوعِ ضَحِيْعاً ، میں بھوک اور فاقہ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان۔اے اللہ کے رسول ! ہمارے گھر کھانا ہے آپ تشریف لائیں۔آپ نے میرا سہارا لیا یہاں تک کہ ہمارے گھر تشریف لائے۔ھنڈیا اہل رہی تھی۔آپ نے فاطمہ سے فرمایا پہلے تھوڑ اسا عا ئشہ کے لئے ڈال دو۔انہوں نے ایک پیالے میں ڈال دیا پھر فرمایا اب حفصہ کے لئے کچھ ڈال دو۔انہوں نے دوسرے پیالے میں ڈالا۔یہاں تک کہ حضور نے نو بیویوں کے لئے کھانا ڈلوایا۔پھر فرمایا اب اپنے والد اور میاں کے لئے بھی ڈال دو۔جب وہ ڈال چکیں تو فرمایا اب خود ڈال کر کھاؤ۔پھر انہوں نے ھنڈ یا اُتاری تو وہ بھری کی بھری تھی۔حضرت علی کہتے ہیں جب تک خدا نے چاہا ہم نے (اُس سے ) کھایا۔(ابن سعد ) 45 آنحضرت کی ایک بیوی حضرت صفیہ تھیں، جو رسول اللہ کے شدید معاند اور یہودی قبیلہ بنی نضیر کے مشہور سردار حیی بن اخطب کی بیٹی تھیں۔جنگ خیبر میں حضرت صفیہ کا باپ اور ان کا خاوند مسلمانوں سے لڑتے ہوئے مارے گئے تھے، مگر آنحضرت ﷺ نے پھر بھی یہود خیبر پر احسان فرماتے ہوئے حضرت صفیہ بنت حیی کو اپنے عقد میں لینا پسند فرمایا۔اپنے جانی دشمن کی بیٹی صفیہ کو بیوی بنا کر اپنی شفقتوں اور احسانوں سے جس طرح انہیں اپنا گرویدہ کیا اور ان کا دل آپ نے جیتا وہ بلاشبہ انقلاب آفرین ہے۔جنگ خیبر سے واپسی کا وقت آیا تو صحابہ کرام نے یہ عجیب نظارہ دیکھا کہ آنحضرت اونٹ پر حضرت صفیہ کے لئے خود جگہ بنا رہے ہیں۔وہ عبا جو آپ نے زیب تن کر رکھی تھی اتاری اور اسے تہہ کر کے حضرت صفیہ کے بیٹھنے کی جگہ پر بچھا دیا۔پھر ان کو سوار کراتے وقت اپنا گھٹنا ان کے آگے جھکا دیا اور فرمایا اس پر