اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 447 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 447

اسوہ انسان کامل 447 اہلی زندگی میں رسول کریم کا بہترین نمونہ مشورہ نہ دیں گے۔(بخاری) 21 خانگی امور کی بجا آوری بیویوں کی اس فدائیت کی وجہ در اصل آنحضرت اللہ کا ان کے ساتھ بے تکلف رہن سہن اور حسن سلوک ہی تھا، باوجود یکہ تمام دنیا کی ہدایت اور ایک عالم تک پیغام حق پہنچانے کی کٹھن ذمہ داری آپ کے نازک کندھوں پر تھی۔بندوں کے حق ادا کرنے کے علاوہ آپ کو اپنے مولیٰ کی عبادت کا حق بھی پورا کرنا ہوتا تھا لیکن حیرت ہے گھر کے کام کاج میں دوسری ذمہ داریوں کی وجہ سے کوئی کمی واقع نہیں ہونے دیتے تھے۔آپ گھریلو کام کاج کو بھی اتنا ہی اہم سمجھتے تھے جیسا کہ دوسری ذمہ داریوں کو۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جتنا وقت آپ گھر پر ہوتے تھے گھر والوں کی مدد اور خدمت میں مصروف رہتے تھے یہاں تک کہ آپ کو نماز کا بلاوا آتا اور آپ مسجد تشریف لے جاتے۔( بخاری )22 کسی نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ آنحضرت ﷺ گھر میں کیا کیا کرتے تھے۔فرمانے لگیں آپ تمام انسانوں کی طرح ایک انسان تھے کپڑے کو خود پیوند لگا لیتے تھے بکری خود دوہ لیتے تھے اور ذاتی کام خود کرلیا کرتے تھے۔(احمد 23 ) اسی طرح انہوں نے بیان کیا کہ آپ اپنے کپڑے خو دسی لیتے تھے، جوتے ٹانک لیا کرتے تھے اور گھر کا ڈول وغیرہ خود مرمت کر لیتے تھے۔(احمد 24 ) رات کو دیر سے گھر لوٹتے تو کسی کو زحمت دینے یا جگائے بغیر کھانا یا دودھ خود تناول فرمالیتے۔(مسلم) 25 بیویوں میں عدل رسول کریم کوشش فرماتے کہ تمام بیویوں کے حقوق کی ادائیگی میں سرمو فرق نہ آئے۔جنگوں میں جاتے ہوئے بیویوں میں سے کسی کو ساتھ لے جانے کے لئے قرعہ اندازی فرماتے تھے اور جس کا قرعہ نکلتا اس کو ہمراہ لے جاتے تھے۔( بخاری )26 هر چند که آیت تُرْجِيُ مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُوَى إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ“ (سورۃ الاحزاب:52) کے مطابق آپ کو اختیار تھا کہ بیویوں میں سے آپ سجس کو چاہیں اس کی باری مؤخر کر دیں اور جسے چاہیں پہلے باری دے کر اپنے ہاں جگہ دیں۔پھر بھی زندگی میں ایک دفعہ بھی آپ نے یہ اختیار استعمال نہیں فرمایا کہ بلاوجہ معمول کی باریوں میں کوئی تفریق کی ہو۔حضرت عائشہ اپنے خاص انداز محبت میں عرض کیا کرتی تھیں کہ اگر یہ اختیار مجھے ہوتا تو میں تو صرف آپ کے حق میں ہی استعمال کرتی۔( بخاری )27 بیویوں کے درمیان آنحضرت ﷺ کے انصاف کا یہ عالم تھا کہ آخری بیماری میں بھی جب ازدواجی حقوق کی ادائیگی کی بجائے آپ کی تیمارداری کا سوال کہیں زیادہ اہم تھا۔اس وقت بھی آپ نے اس دلی خواہش کے باوجود کہ