اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 441 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 441

اسوہ انسان کامل 441 اہلی زندگی میں رسول کریم کا بہترین نمونہ اہلی زندگی میں رسول کریم کا بہترین نمونہ مردوں اور عورتوں اور خصوصاً میاں بیوی کے حقوق کا نزاع بہت پرانا ہے۔بانی اسلام حضرت محمد نے نہ صرف اس پہلو سے کمال اعتدال اور انصاف پر مبنی تعلیم پیش فرمائی بلکہ عملی رنگ میں اُس کا بہترین نمونہ پیش کر کے دکھا دیا اور فرمایا تم میں سے سب سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ حسن سلوک میں بہتر ہے اور میں تم سب سے بڑھ کر اپنے اہل خانہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا ہوں۔“ ( ترندی ) 1 اسلام کی پاکیزہ تعلیم میں عورتوں کے حقوق کے ساتھ اُن کے فرائض کا ذکر بھی بیان کر دیا گیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح عورتوں کے کچھ حقوق مقرر ہیں اسی طرح اُن کی کچھ ذمہ داریاں اور فرائض بھی ہیں ( لیکن گھر کا نظام قائم رکھنے کیلئے ) مردوں کو اُن پر ایک فوقیت دی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ غالب اور بڑی حکمت والا ہے۔“ ( سورة البقرة: 229) دراصل مردوں اور عورتوں میں جسمانی وضع میں بھی فرق ہے۔عورت کے قوامی اور صلاحیتیں بچوں کی پیدائش، پرورش اور ان کی تربیت کے لحاظ سے تخلیق ہوئے ہیں مقابلہ مرکو مضبوط قوی دیے ہیں اوراس کی ذمہ دار یاں بھی زیادہ تر گھر سے باہر کے معمولات سے متعلق ہیں اور نان و نفقہ کا انتظام اور گھر سنبھالنے کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لحاظ ہی سے اس کی صلاحیتیں رکھی گئی ہیں۔آنحضور نے بھی یہ فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک اپنے دائرہ عمل میں نگران بنایا گیا ہے اور اُس سے اس کی نگرانی اور رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ایک مرد اپنے گھرانے میں اور اپنے خاندان کے لوگوں کے اُوپر نگران ہوتا ہے اور ایک عورت اپنے خاوند کے گھر اور اپنی اولاد کی تربیت کی نگران ہوتی ہے۔اور تم میں سے ہر ایک سے اُس کی نگرانی کے بارہ میں پوچھا جائے گا۔“ اب دیکھو کس طرح اسلام نے عورت کو ملکہ بنا کر گھر میں ایک تخت پر بٹھا دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے گھر کی ذمہ داریاں ادا کرنے والی، اپنے بچوں کو سنبھالنے والی، اپنے خاوند کے گھر اور خاندان کی ایک مکمل اور با اختیار نگران ہے لیکن نظام کسی منتظم کے بغیر چل نہیں سکتا اس لئے مرد کا یہ فرض اور ذمہ داری ٹھہرائی کہ وہ گھر کے اخراجات اور باہر کی ذمہ داریاں بھی ادا کرتا رہے اور کمزور صنف کی تربیت کیلئے اسے نگران بھی مقرر کیا اور فرمایا کہ اس پہلو سے ہم نے مردوں کو عورتوں پر نگران مقرر فرمایا ہے۔“ (سورۃ النساء : 35 ) آج کل مرد عورت کے مساوی حقوق کے علم بردار بھی عملی طور پر مجبور عورتوں کی کھیلیں عورتوں کے ساتھ اور مردوں